• Misyar Marriage

    is carried out via the normal contractual procedure, with the specificity that the husband and wife give up several rights by their own free will...

  • Taraveeh a Biad'ah

    Nawafil prayers are not allowed with Jama'at except salatul-istisqa' (the salat for praying to Allah to send rain)..

  • Umar attacks Fatima (s.)

    Umar ordered Qunfuz to bring a whip and strike Janabe Zahra (s.a.) with it.

  • The lineage of Umar

    And we summarize the lineage of Omar Bin Al Khattab as follows:

  • Before accepting Islam

    Umar who had not accepted Islam by that time would beat her mercilessly until he was tired. He would then say

Sunday, November 2, 2014

لولا علی لھلک عمر

مصحف امام علی علیه السلام کی حقیقت کیا ہے؟

مصحف امام علی علیه السلام کی حقیقت کیا ہے؟

ایک بنیادی اعتراض جو غرض مند افراد نے شیعہ امامیہ پر وارد کیا ہے یہ ہے کہ شیعہ لوگ معتقد ہیں کہ امام علی  علیہ السلام  کا ایک الگ قرآن ہے جو اس وقت امام زمانہ  علیہ السلام  کے پاس موجود ہے ۔
وہابیوں کے معروف مصنف احسان الٰہی ظہیر نے اپنی کتاب الشیعہ و السنۃ میں لکھا ہے :
          ” شیعہ حضرات اس بات کے مدعی ہیں کہ امام علی  علیہ السلام  کے پاس ایک مصحف جو کہ مسلمین کے قرآن کے علاوہ ہے اور یہ شایعہ پھیلانے سے یہ ہدف رکھتے ہیں کہ امت اسلامی میں تفرقہ پیدا کریں “ (۱) 
          اسی لئے یہاں پر امام علی  علیہ السلام  کے مصحف کے بارہ میں مختصر بحث تاکہ اس کا حقیقی مرتبہ نمایاں ہوجائے کہ واقعاً شیعہ امام علی  علیہ السلام  کے مصحف کو قرآن سے جدا سمجھتے ہیں اور اس کا نام دوسرا قرآن رکھا ہے جیسا کہ احسان الٰہی ظہیر نے کہا ہے ، یا اس کو قرآن کی تفسیر سمجھتے ہیں ؟

امام علی  علیہ السلام  اعلم صحابہ ہیں :

          اس بات میں شک نہیں ہے کہ امام علی علیہ السلام صحابہ میں سب سے زیادہ اعلم اور افضل تھے :
          امام ترمذی اور دوسرے لوگوں نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص)  نے فرمایا : ” میں خانہ حکمت ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں “ (۲)
          ابن عباس نے رسول خدا  (ص) سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : ” میں مدینہ کا علم ہوں اور علیؑ اس کے دروازہ ہیں اور جس کو شہر علم میں داخل ہونا ہے اسے چاہئے کہ اس کے دروازے سے داخل ہو“ (۳) 
          ابن عساکر نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص)  نے حضرت علی  علیہ السلام  سے فرمایا : ”تم میرے بعد میری امت کے ان مسائل کو حل کروگے جس میں ان لوگوں نے اختلاف کیا ہے “ (۴) 
          ابن عساکر کہتے ہیں : خدا کی قسم !” حضرت علی  علیہ السلام  کو علم کے دس حصہ میں سے نو حصہ دیا گیا ہے اور خدا کی قسم وہ حضرت دسویں حصہ میں بھی تم لوگوں کے شریک ہیں “(۵) 
          عمر ابن خطاب نے اپنی خلافت کے زمانہ میں امام علی  علیہ السلام  کے ہاتھوں لوگوں کی مشکلات کو حل ہوتے دیکھتے ہوئے بارہا یہ جملہ زبان پر جاری کیا کہ : ” لولا علی لھلک عمر “ اگر علی  علیہ السلام نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔ (۶) 

امام علی  علیہ السلام  کاعلم قرآن پر :

امام علی علیہ السلام بقیہ اصحاب سے زیادہ علوم قرآن کی نسبت آگاہ اور اس کی تفسیر ناسخ و منسوخ ، محکم و متشابہ وغیرہ سب سے زیادہ آشنا تھے ۔
          ابن مسعود نقل کرتے ہیں : امام علی  علیہ السلام  نے مسلمین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ” مجھ سے اللہ کی کتاب کے بارہ میں سوال کرو کیوں کہ کوئی ایسی آیت نہیں ہے جس کے متعلق مجھے علم نہ ہو کہ دن میں نازل ہوئی ہے یا رات میں ، ہموار زمین پر نازل ہوئی ہے یا پہاڑوں کے درمیان “ ( ۷) 
          اور اسی طرح فرماتے ہیں : ” بہ تحقیق کی قرآن میرے ساتھ ہے اور جس وقت سے میں اس کے ساتھ ہوں کبھی بھی اس سے جدا نہیں ہوا ہوں “ (۸)  امام حاکم اور دوسرے لوگوں نے حضرت ام سلمہؓ نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا  (ص)  نے فرمایا : ” علی  علیہ السلام  قرآن کے ساتھ اور قرآن علی  علیہ السلام  کے ساتھ ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی بھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر کے کنارہ مجھ پر وارد ہو جائیں “ (۹) 
          ابن ابی الحدید اپنی سند سے امام محمد باقر   علیہ السلام  سے نقل کرتے ہیں : کہ طلوع فجر کے بعد فقراء ، مساکین اور دیگر لوگ امام علی  علیہ السلام  کے گرد جمع ہوجاتے تھے اور امام علی  علیہ السلام  ان لوگوں کو فقہ اور قرآن کی تعلیم دیتے تھے ۔ (۱۰) 
          ابن عساکر اپنے سلسلہٴ سند سے ابن مسعود سے نقل کرتے ہیں : میں نے ۹۰ سورہ رسول خدا  (ص) کے پاس پڑھی اور قرآن کو لوگوں میں بہترین شخص کے پاس ختم کیا ۔ سوال ہوا : بہترین شخص کون ہے ؟ فرمایا : علی ابن ابی طالب علیہ السلام ۔ (۱۱) 
جزری در اٴسنی المطالب میں نقل کرتے ہیں کہ قرآن سات حرف پر نازل ہوا ہے اور ایسا کوئی حرف نہیں ہے جس میں ظاہر و باطن نہ ہو اور بہ تحقیق علی  علیہ السلام  کے نزد اس ظاہر و باطن کا علم موجود ہے ۔ (۱۲) 

امام علی  علیہ السلام  اور قرآن کا جمع کرنا :

گذشتہ روایات پر نظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ صرف وہ شخص لائق ہے کہ جس کو پیغمبر اسلام  (ص)  عظیم کام جیسے قرآن کی جمع آوری کا انتخاب ، وہ علی بن ابی طالب  علیہ السلام  ہیں ۔
متقی ہندی نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر  نے حضرت علی  علیہ السلام  کو حکم دیا کہ وہ مصحف جو آ نحضرت  کے گھر میں فراش کی پشت پر اور مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا اس کو ایک کتاب میں جمع کرلیں ۔ (۱۳) 
          ابن ابی الحدید امام علی  علیہ السلام  کے بارہ میں کہتا ہے : ” سبھی لوگوں کا اس بات پر اتفاق نظر ہے کہ صرف علی  علیہ السلام  نے رسول خدا (ص)  کے زمانہ میں قرآن کو حفظ کیا اور وہ اولین شخص تھے کہ جس نے قرآن کو ایک کتاب میں جمع کیا “ (۱۴) 
امام باقر   علیہ السلام  فرماتے ہیں : ” اس امت کے کسی بھی شخص نے قرآن کو جمع آوری نہیں کی ہے سوائے رسول خدا (ص)  وصی و وزیر حضرت علی  علیہ السلام  نے “ ( ۱۵) 

          امام علی  علیہ السلام  نے فرمایا :

          امام باقر   علیہ السلام  نے فرمایا : ” جو بھی اس بات کا دعویٰ کرے کہ جس طرح قرآن نازل ہوا ہے اس طرح سے اس نے اس کی جمع آوری کی ہے وہ جھوٹا ہے ۔ جس طرح سے علی  علیہ السلام  اور ان کے بعد آنے والے اماموں نے قرآن کو جمع اور حفظ کیا ہے کسی بھی شخص نے اس طرح سے  جمع اور حفظ نہیں کیا ہے “ ( ۱۷) 
          امام علی  علیہ السلام  نے فرمایا : ” کوئی آیت رسول خدا  پر نازل نہیں ہوئی مگر یہ کہ ان حضرت نے مجھ پر قراٴت اور انشاء کیا اور میں نے بھی اس کو اپنے خط سے لکھا ، اور آ نحضرت  نے قرآن کی تفسیر ، ناسخ و منسوخ کرنے کی بھی مجھے تعلیم دی “ (۱۸) 
محمد بن سیرین عکرمہ سے اس طرح نقل کرتے ہیں : ” ابوبکر کی خلافت کی ابتداء میں امام علی  علیہ السلام  نے گھر میں بیٹھ کر قرآن کے جمع کرنے کا کام شروع کیا ۔ ابن سیرین کہتے ہیں : میں نے عکرمہ سے عرض کیا : آیا حضرت علی  علیہ السلام  سے پہلے قرآن کی تاٴلیف موجود تھی ؟ کہا : اگر جن و انس جمع ہوجائیں تب بھی وہ حضرت علی  علیہ السلام  کے جیسی تاٴلیف نہیں کر سکتے ہیں ۔ (۱۹) 
          ابن حجر کہتے ہیں : ” حدیث میں وارد ہوا ہے کہ حضرت علی  علیہ السلام  نے رسول خدا  (ص) کی وفات کے بعد قرآن کو ترتیب نزول کے ساتھ جمع کیا “ (۲۰) 
ابن کثیر ، ابن ابی شیبہ اور ابن سعد نقل کرتے ہیں کہ اس بات پر بہت سی روایتیں دلالت کرتی ہیں کہ پہلا مصحف جو اسلام میں جمع کیا گیا ہے ، وہ مصحف علی  علیہ السلام  ہے ۔ (۲۱) 

امام علی  علیہ السلام  کے مصحف کی خصوصیات :

          حدیث کے مجموعے سے جو امام علی  علیہ السلام  کے مصحف کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اس سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ ان حضرت کا مصحف نیچے دی گئی خصوصیات و امتیازات کا حامل ہے ۔
          ۱۔ ترتیب نزول کی بنیاد پر قرآن کی آیت مرتبت ہوئی ہے ۔
          ۲۔ منسوخ ناسخ پر مقدم ہے ۔
          ۳۔ بعض آیتوں کی تاویل تفصیل کے طور پر لکھی ہوئی ہے ۔
          ۴۔ بعض آیتوں کی تفسیر تفصیل سے بیان کی گئی ہے ۔
          ۵۔ قرآن کے محکمات و متشابہات کو ذکر کیا گیا ہے ۔
          ۶۔ قرآن سے حرف کی کمی یا زیادتی نہیں کی گئی ہے ۔
          ۷۔ اہل حق و باطل کے نام ذکر ہوئے ہیں ۔
          ۸۔ املائے رسول خدا  (ص) اور امام علی  علیہ السلام  کی تحریر تھی ۔
          ۹۔ فضایح قوم میں سے،مہاجرین ، انصار اور ان لوگوں کا جو اسلام کے ہمراہ نہیں تھے ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
          ۱۰۔ قرآن کے نصوص ضبط اور ثابت ہیں ۔
          ۱۱۔ قرآن کی قراٴت ، جس طرح سے رسول خدا  (ص) قراٴت کرتے تھے اس طرح ثبت ہوا ہے ۔
۱۲۔ حاشیہ میں توضیحات پر مشتمل اور مناسب بیان ہے کہ جو آیات کے نزول کا سبب بنا ۔ اور اسی طرح سے جگہ،  وقت اور قرآن کی آیت میں شاٴنیت اشخاص منعکس اور مراعات ہوئی ہے ۔ ( ۲۲) 

اہل سنت کا اعتراف :

          جو خصوصیتیں حضرت علی  علیہ السلام  کے مصحف کے لئے بیان کی گئی ہیں اس کا حق ہے کہ اس کے نام کو اس کی خصوصیات کے ساتھ سنے     تاکہ ان کے علم کے خزانے سے بہرہ مند ہو ۔ تاریخ اس کی مثال ہے کہ بعض علماء نے   سیوطی اور دوسرے لوگ ابن سیرین سے نقل کرتے ہیں کہ کہا : ” مجھ کو خبر دی گئی کہ علی نے قرآن کو اس کے نزول کی کیفیت کے مطابق لکھ رکھا ہے ، اگر وہ مجھے مل جائے تو سمجھ لو کہ بہت بڑا علم مل گیا ہے “ (۲۳)  اس کے بعد کہتے ہیں : کہ اس کتاب کو طلب کیا حتی ایک خط بھی مدینہ لکھا تا کہ اس کے بارے میں معلومات حاصل کروں ، لیکن اس میں کامیاب نہیں ہوا ۔
          صرف ابن سیرین کو وہ کتاب نہیں ملی بلکہ ابن عون نے بھی جب اس کتاب کے فضل سے آگاہوئے تو اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی ، لیکن کامیاب نہیں ہوا ۔ وہ خود کہتے ہیں : ” کہ میں نے عکرمہ سے مصحف امام علی  علیہ السلام  کے بارے میں سوال کیا ، لیکن ان کو بھی اس کتاب کے بارے میں معلومات نہیں تھی “ زہری بھی مصحف علی  علیہ السلام  کے بارے میں کہتے ہیں : ” اگر وہ مصحف مل جائے بہت فائدہ مند تھی اور اس کا علم بھی بہت زیادہ ہے “ ۔ (۲۴) 
اسی طرح ابن جزری کلبی سے نقل ہوا ہے کہ انھوں نے کہا : ” اگر مصحف علی  علیہ السلام  مل جائے اس میں بہت علم ہے ۔۔۔ “ ۔ (۲۵) 

مصحف امام علی  علیہ السلام  کے مخفی ہونے کی علت :

          ایک سوال جو یہاں مطرح ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیوں مصحف امام علی  علیہ السلام  لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے تاکہ انسان اس کے علوم اور اس کی خبروں سے محروم رہیں ؟
تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ امام علی  علیہ السلام  نے قرآن کی جمع آوری کرنے کے بعد اس کو اپنے لئے رکھ لیا ۔ البتہ اس سے قبل لوگوں کے پاس اآے اور ان کو دکھایا لیکن ان لوگوں نے علی  علیہ السلام  کے قرآن کو قبول نہیں کیا ۔
شیخ صدوق اعتقادات کی کتاب میں اس طرح نقل کرتے ہیں کہ : امام علی  علیہ السلام  نے قرآن کی جمع آوری کرنے کے بعد اس کو لے کر مسجد میں آئے اور فرمایا : ” یہ تمھارے خدا کی کتاب ہے ، جیسا کہ تمھارے نبی پر نازل ہوئی ہے ، اس میں کوئی حرف کم یا زیادہ نہیں ہوا ہے “ لوگوں نے امام  علیہ السلام  کے جواب میں کہا : ہم کو آپ کے قرآن کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ تمھارے قرآن کے جیسی کتاب ہمارے پاس موجود ہے ۔ (۲۶) 
اہل سنت کے مصادر سے بھی استفادہ ہوتا ہے کہ امام علی  علیہ السلام  نے رسول خدا(ص)   کی وفات کے بعد قرآن کی جمع آوری کی خاطر لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی ، ( البتہ یہ کام رسول خدا  ک(ص) ے حکم کے مطابق تھا )  اور فرمایا : میں ردا کو اس وقت تک اپنے کاندھے پر نہیں رکھونگا جب تک قرآن کو جمع نہ کر لوں ۔ روایت میں آیا ہے کہ ان حضرت نے ردا کو کاندھے پر نہیں رکھا ، سوائے نماز کے یہاں تک کہ قرآن کو جمع کر لیا ۔ (۲۷) 

جمع کرنے کی مدت :

          بعض لوگ معتقد ہیں کہ امام علی  علیہ السلام  نے اپنے مصحف کو چھ مہینے کی مدت میں جمع کیا ۔
          لیکن بعض روایتوں کے مطابق ، امام علی  علیہ السلام  نے رسول خدا  ک(ص) ے بعد قرآن کو تین دن میں جمع کر لیا ۔ (۲۸)  
          ان دونوں قول کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام علی  علیہ السلام  نے قرآن کی آیتوں کو رسول خدا (ص)  حیات کے زمانہ ہی میں لکھ چکے تھے اور آ نحضرت  کی وفات کے بعد پیامبر  کے دستور کے مطابق اس کو مرتب و منظم کیا کہ جو تین شب و روز میں ختم ہوا ۔ ۔

مصحف امام علی  علیہ السلام  کے رد ہونے کی علت :

          اگر امام علی  علیہ السلام  کے جواب میں کہا جائے : ہمیں آپ کے قرآن کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ آپ کے قرآن کے مانند ہمارے پاس موجود ہے ۔ یہ جملہ امام علی  علیہ السلام  کے قرآن چھوڑنے کے سبب کی حقیقی تعبیر نہیں ہے ، کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ اگر جن و انس مل کر علی  علیہ السلام  کے قرآن جیسا لکھیں ، تو نہیں لکھ سکتے ہیں ، جیسے عکرمہ ابن سیرین سے کہتے ہیں (۲۹)  : بلکہ مصحف امام علی  علیہ السلام  کے رد ہونے کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انھیں بخوبی معلوم تھا کہ اس مصحف میں قرآن کے حقیقی آیتوں کی تفسیر ہے ، کیونکہ یہ کام ان کی سیاست سے میل نہیں کھاتا تھا ۔ اور یہ بھی جانتے تھے کہ اس مصحف میں اہل حق و باطل کے نام کہ جن پر قرآن نازل ہوا ہے موجود ہے ۔ لہذا اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ مصحف ان کی سیاست کے ضرر میں ہے اور اسی ضرر و نقصان کی وجہ سے حدیث رسول خدا  (ص) کی نشر و اشاعت کی روک تھام کی ہے ۔
          کلام امام علی  علیہ السلام  میں صریحی طور پر اس دلیل کی طرف اشارہ ہے ، جہاں پر وہ خود اپنے مصحف کی داستان کے بارے میں کہتے ہیں : ” جب ان کو اس بات کا علم ہوا کہ اللہ نے اہل حق و باطل کے اسامی مصحف میں بیان کیا ہے اور یہ روشن و آ شکار ترین نقض ہے اسی لئے ان لوگوں نے عہد کیا اور کہا : ہمیں تمھارے مصحف کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، جو کچھ قرآن میں سے ہمارے پاس ہے وہ ہمیں بے نیاز کردیتا ہے ۔ (۳۰) 

امام علی  علیہ السلام  کا مصحف کہاں ہے :

          بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ مصحف امام علی  علیہ السلام  ان حضرت کے بعد ان کے بیٹے امام حسن  علیہ السلام  پھر امام حسین  علیہ السلام  اور اسی طرح سے ان کے معصوم فرزندوں میں منتقل ہوئی ہے اور اب بھی ان آخری معصوم فرزند ، یعنی امام زمانہ  علیہ السلام  کے پاس ہے۔
          طلحہ کہتے ہیں : میں نے امیر المومنین  علیہ السلام  سے سوال کیا : مجھے خبر دیں اس چیز سے جو آپ کے پاس ہے ، جیسے قرآن اور اس جیسی ، اور حلال و حرام کا علم ، مصحف کو کس کے حوالے کریں گے اور آپ کے بعد اس مصحف کا صاحب و مالک کون ہے ؟ حضرت نے فرمایا : ” اس کے حوالے کروں گا کہ جس کو رسول خدا  نے مجھے حکم دیا ہے ، وہ میرا وصی اور لوگوں میں پہلا شخص ، یعنی میرا بیٹا حسن ہے اور وہ بھی میرے بیٹے حسین کو دے گا اور اسی طرح ایک ایک کر کے سب بیٹوں میں حسین کے بیٹے تک پہنچے گا ۔ (۳۱) 
          ایک حدیث جو امام صادق   علیہ السلام  سے نقل ہوئی ہے پڑھتے ہیں : ( یہ مصحف امام زمانہ کے پاس ہے اور جب قیام کریں گے ، کہ جو علی علیہ السلام کی تحریر  لائیں گے )  ( ۳۲) 
          لہذا مصحف امام علی  علیہ السلام  جیسا کی روشن ہے ، قرآن سے قرآنی جدائی حتی اس سے کم و زیادہ نہیں ہے ، بلکہ قرآن کریم کی آیتوں کی حقیقت میں تفسیر ہے کہ جو خاص ترتیب اور حسب نزول ہے ، اس میں علم و معرفت کا سمندر ہے کہ جس کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ لوگ اس کی برکتوں سے محروم ہوگئے ۔
   حوالے جات
          ۱۔ الشیعہ و السنۃ احسان الٰہی ظہیر ، ص۸۸ ۔
          ۲۔ صحیح ترمذی ، ج۵ ص۶۳۷ ۔
          ۳۔ مستدرک حاکم ، ج۳، ص۱۲۷۔
          ۴۔ ترجمہ امام علی  علیہ السلام  ابن عساکر سے ، ج۲، ص۴۸۸۔
          ۵۔ استیعاب ، ج۳، ص۴۰۔
          ۶۔ ہمان ، ص۳۹ و فیض القدیر ، ج۳، ص۳۵۷۔
          ۷۔ الطبقات الکبری ، ج۲، ص۳۳۸ و تاریخ الخلفاء ، ص۱۸۵۔
          ۸۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۲۲۔
          ۹۔ مستدرک حاکم ، ج۳، ص ۱۲۴ و کنز العمال ، ج۱۱ ص ۴۰۳ و مجمع الذوائد ، ج۹ ، ص۱۳۴۔
          ۱۰۔ شرح ابن ابی الحدید ، ج۴ ص ۱۰۹۔
          ۱۱۔ ترجمہ امام علی  علیہ السلام  ، ابن عساکر ، ج۳، ص۲۶ ، رقم ۱۰۵۱ومجمع الذوائد ، ج۹ ، ص۱۱۶۔
          ۱۲۔ اسنی المطالب ، ص۱۵۔
          ۱۳۔ کنز العمال ، حدیث ۴۷۹۲۔
          ۱۴۔ شرح ابن ابی الحدید ، ج۱ ، ص۲۷۔
          ۱۵۔ بحار الانوار ، ج۸۹، ص۴۸۔
          ۱۶۔ ہمان ، ص۵۲۔
          ۱۷۔ کافی ، ج۱ ، ص۱۷۸ و کنز العمال ، ج۲ ، ص۳۷۳۔
          ۱۸۔ کمال الدین ، ج۱ ، ص۲۸۴۔
          ۱۹۔ اتقان ، سیوطی ، ج۱، ص۵۷ و طبقات ابن سعد ، ج۲، ص۱۰۱۔
          ۲۰۔ اتقان ، ج۱، ص ۷۱ و ۷۲ و مصنف ابن ابی شیبہ ، ج۱، ص۵۴۵ و طبقات ابن سعد ، ج۲، ص ۳۳۸ و ابن کثیر ، ج۱، ص۲۸۔
          ۲۱۔ مصنف ابن ابی شیبہ ، ج۱، ص ۵۴۵ ، طبقات ابن سعد ، ج۲ ، ص۳۳۸۔
          ۲۲۔ حقائق ھامہ ، ص ۱۶۰ و ۱۶۱۔
          ۲۳۔ التمہید ، ج۱، ص۲۹۲۔
          ۲۴۔ تاریخ الخلفاء ، ص۱۸۵و طبقات ابن سعد ، ج۲، ص۳۳۸ و الاستیعاب بھامش الاصابہ ، ج۲، ص ۲۵۳۔
          ۲۵۔ فواتح الرحموت بھامش المستصفی ، ج۲، ص۱۲۔
          ۲۶۔ التسہیل لعلوم التنزیل ، ج۱ ، ص۴ ۔
          ۲۷۔ اعتقادات صدوق ، ہمراہ با مصنفات شیخ مفید ، ج۵ ، ص۸۸۵ ۔
          ۲۸۔ الطبقات الکبری ، ج۲، ص۳۳۸ و انساب الاشرف ، ج۱، ص۵۸۷ و الاتقان ، ج۱ ، ص۲۰۴۔
          ۲۹۔ مناقب ، ابن شہر آشوب ، ج۲، ص۴۰۔
          ۳۰۔ مقدمہٴ تفسیر برہان ، ص ۳۷ و المصنف ، ابن ابی شیبہ ، ج۱، ص۵۴۵۔
          ۳۱۔ مناہل العرفان ، ج۱، ص۲۴۷۔
          ۳۲۔ احتیاج طبرسی ، ج۱، ص۳۸۳ و تفسیر صافی ، ج۱، ص۳۸ و ۳۹ ۔
          ۳۳۔ بحار الانوار ، ج۹۲، ص۴۲ و تفسیر صافی ، ج۱، ص۳۸۔
          ۳۴۔بصائر الدرجات ، ص۱۹۳۔       

قاتل حضرت زهرا کیست؟

متن پاسخ: مرحوم محدّث قمی، اقوال محدّثان بزرگ اهل تشیّع و تسنّن درباره شهادت حضرت زهرا(س) و عاملان به شهادت رساندن حضرت را در کتاب بیت‏الاحزان{۱} ذکر کرده که خلاصه‏ای از آن چنین است: 

۱. ابو محمد بن عبدالله بن مسلم بن قتیبه دینوری، از عالمان معروف اهل تسنّن در کتاب الامامْ و السیاسه می‏نویسد: ابوبکر دستور داد عدّه‏ای از اصحاب را که با او بیعت نکرده بودند، برای گرفتن بیعت حاضر کنند؛ ولی افراد ابوبکر آن‏ها را نزد امام علی(ع) یافتند. در این هنگام عمر به خانه حضرت علی(ع) رفت و فریاد زد: بیرون بیایید. وگرنه سوگند به کسی که جان عمر در دست او است، خانه را با اهل آن به آتش می‏کشم. بعضی از حاضران به عمر گفتند: حضرت فاطمه(س) در این خانه است. عمر گفت: اگر فاطمه هم در خانه باشد، باز هم آن را آتش می‏زنم.{۲} 

۲. دانشمند معروف اهل تسنّن، ابن ابی الحدید در شرح نهج‏البلاغه می‏نویسد: در فتح مکّه( سال ششم هجری) شخصی به نام هبار بن أسوده، زینب دختر رسول خدا(ص) را که در محمل نشسته بود، با نیزه ترسانیده ،و سبب شده بود که وی فرزندش را سقط کند. پیامبر(ص) برای خون هبار احترام قائل نشد، و او را به اعدام محکوم کرد.{۳} ابن ابی الحدید می‏گوید: من این خبر را برای استادم ابو جعفر نقیب نقل کردم. استادم فرمود: اگر رسول خدا ریختن خون هبار بن أسود را جایز بداند از آن رو که او زینب را ترسانیده و سبب سقط جنین او شده، لازمه این حکم آن است که اگر حضرت پیامبر زنده بود، ریختن خون آن کس را که حضرت فاطمه(س) را ترسانیده بود به طوری که سبب سقط فرزند حضرت شد نیز جایز می‏دانست.{۴} 

میر حامد حسین هندی، در کتاب عبقات الانوار، از کتاب الوافی بالوفیات، تألیف صلاح‏الدین صفدی که از عالمان اهل تسنّن است، در شرح زندگی نظام از استادان و عالمان بزرگ اهل تسنّن نقل می‏کند که نظام گفت: پیامبر تصریح کرد که مقام امامت از آن علی(ع) است و حضرت را به فرمان حق تعالی برای امامت معرّفی کرد؛ به طوری که همه اصحاب از آن آگاه شدند؛ ولی عمر آن را به سبب ابوبکر، کتمان کرد. وی در ادامه سخن می‏گوید: عمر در روز بیعت با ابوبکر به پهلوی حضرت فاطمه(س) ضربه زد که بر اثر آن، محسن فاطمه سقط شد/ 

محدّث قمی در بیت الاحزان می‏نویسد: محمد بن جریر طبری امامی به سند معتبر از ابو بصیر نقل می‏کند که امام صادق(ع) فرمود: حضرت فاطمه(س) روز سه‏شنبه، سوم جمادی‏الثانی، سال یازدهم هجری از دنیا رفت و علّت وفات حضرت، ضربت قنفذ غلام عمر بن خطاب بود که به دستور عمر با غلاف شمشیر بهحضرت ضربه زد؛ به طوری که فرزندش محسن سقط شد و همین امر، بیماری شدید حضرت را در پی داشت.{۵} 

همچنین نامه عمر به معاویه که شرح این حادثه را به طور گسترده بیان می‏کند، خواندنی است. مشروح این نامه را علاّمه مجلسی، در کتاب بحارالانوار، ج ۸، ص ۲۲۲، چاپ قدیم از کتاب دلائل الامامه، ج ۲ نقل کرده است/ 

اقوال دیگری از عالمان تسنّن و تشیّع در این زمینه نقل شده است که مجالی برای نقل آن نیست. به هر حال، از مجموع آرای ناقلان این حادثه استفاده می‏شود این واقعه دردناک که آن افراد برای حضرت زهرا(س) پیش آوردند. سرانجام سبب شهادت آن اسوه تقوا و هدایت شد/ 

[۱].بیت الاحزان،شیخ عباس قمی، ص ۱۲۳، دارالحکمْ، قم المقدسه، ۱۴۱۲ ه’ ق/ 
[۲].الامامْ و السیاسه، ابن قتیبه الدینوری، ج ۱، ص ۳۰، اوّل، انتشارات شریف رضی/ 
[۳].سیره ابن هشام، محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی، ج ۲، ص ۴۸۲، مکتبْ محمد علی صبیح و أولاده. 
[۴].شرح نهج‏البلاغه،ابن ابی حدید، ج ۱۴، ص ۱۹۳، داراحیأ الکتب العربیه/ 
[۵].بیت‏الاحزان، شیخ عباس قمی، ص ۱۸۹، دارالحکمه ۱۴۱۲ ه’. ق/

آلِ عمر اور آلِ محمد

آلِ محمد سے کیا مراد ہے؟

ناصبی دعویٰ کہ "آلِ محمد" سے مراد "پوری امت" ہے
چونکہ درود سے بھی آلِ محمد کی فضییلت ثابت ہوتی ہے جس سے ہر انسان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اتنے افضل اور اعلیٰ لوگ موجود تھے تو پھر امت نے انہیں حکومت کیوں نہ دی؟ جبکہ علم شجاعت، زہد، تقویٰ اور عدل کے علاوہ حکومت چلانے کے لئے بیس فی صدی خمس لینے کے حقدار بھی یہی ہیں، جس سے حکومت کا خرچ چلتا۔
مکتبِ صحابہ کے لیے یہ ایسا مشکل ترین اور پریشان کن سوال ہے جس کی وجہ سے انہیں لفظ آل میں مغالطہ پیدا کرنا لازمی ہو گیا اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ “آلِ محمد” سے مراد پوری امت ہے۔ اور ثبوت کے طور پر یہ دلیل دی کہ:
قران میں لفظ "مومن آلِ فرعون" آیا ہے۔
مگر فرعون کی کوئی اولاد نہیں تھی
اس سے ثابت ہوا کہ وہ شخص فرعون کا بیٹا نہیں تھا، بلکہ اُس کی قوم کا ایک شخص تھا۔
اور قران نے اُس قوم کے شخص کے لئے "آل" کا لفظ لگا کر ثابت کر دیا ہے کہ "آل" سے مراد "پوری امت" ہے۔
آئیے اللہ کے بابرکت نام سے ابتدا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس ناصبی دعویٰ میں کتنی صداقت ہے۔
قران میں آّل سے مراد "اولاد/ نسل/خاندان" ہے
قران میں "آل" سے مراد کہیں بھی "پوری امت" نہیں ہے، بلکہ صرف اور صرف "اولاد/نسل/خاندان"ہے۔
جہاں تک "مومن آلِ فرعون" کا تعلق ہے، تو یہ باتیں ذہن نشین فرمائیں کہ:
اُس وقت مصر کے تمام کے تمام حکمرانوں کا لقب فرعون تھا۔
اور سارے فرعون بے اولاد نہیں تھے۔
اور انہیں فرعونوں کی نسلوں سے مل کر ایک خاندان بن گیا تھا جو کہ "آلِ فرعون" کے نام سے جانا جاتا تھا۔
اللہ نے اسی آلِ فرعون کے خاندان کے ایک شخص کو "مومن آلِ فرعون" کہا ہے۔
بعض مرتبہ حکمران مختلف القاب اختیار کرتے ہیں، جیسے قیصر، کسریٰ، سیزر وغیرہ۔ آج اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ سعودی عرب پر کون حکمران ہے تو ہم یہی کہیں گے کہ آلِ سعود حکمران ہیں، اور انکا لقب ملک ہے.
سعودیہ میں شاہ فہد بادشاہ اور ان کے بھتیجے عبد اللہ ولیعہد قرار پائے ہیں۔ جبکہ اس سلطنت کی بنیاد عبد العزیز ابن عبد الرحمان بن فیصل السعود نے رکھی تھی۔ اس وقت سے ان کے جانشین، بلکہ تما م خاندان کو آلِ سعود کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تو ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ولیعہد عبداللہ کا تعلق آلِ سعود سے ہے اور انہی کی حکومت ہے اور اسی طرح اور جتنے شہزادے ہیں وہ سب بھی آلِ سعود کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
مگر یہ سعودی عرب کے ہر شہری کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا تعلق بھی آلِ سعود سے ہے۔
حکمرانوں کا ملک ہوتا ہے،قوم ہوتی ہے مگر امت نہیں۔ امت تو صرف انبیاء کی ہوتی ہے۔ جبکہ فرعون نبی اور رسول نہیں تھا، بلکہ کافر حکمران تھا۔ اولاد کی اولاد کے سلسلہ کو نسل کہتے ہیں اور ان ہی سے خاندان کا وجود ہے۔ قران میں آّل سے مراد یہی اولاد، نسل یا خاندان ہے۔
قران میں "آل" کی مزید مثالیں
ناصبی حضرات حسبِ عادت قران کا صرف ایک حصہ لیتے ہیں جسے وہ توڑ مڑوڑ کر اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال سکیں، اور باقی قران کو یکسر ٹھکرا دیتے ہیں۔
قران میں لفظ "آل" کے استعمال کے ساتھ بھی انہوں نے یہی رویہ اختیار کیا ہے۔
ذیل میں ہم قران کی وہ آیات پیش کرنے جا رہے ہیں جنہیں ناصبی حضرات نے ٹھکرایا ہوا ہے۔
ان آیات کا اردو ترجمہ و تفسیر سعودی عرب کے شائع کردہ قران سے دیا جا رہا ہے۔ (اس قران کو سعودی حکومت نے لاکھوں کی تعداد میں چھپوا کر پاکستان میں مفت تقسیم کرایا ہے۔ اس قران کے ’مقدمہ‘ میں اس کے مترجم اور مفسر کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے:
خادمِ حرمین الشریفین کی انہی ہدایات اور وزارت برائے مذہبی امور کے اسی احساس کے پیشِ نظر مجمع الملک فھد لطباعۃ المصحف الشریف المدینہ المنورہ اردو دان قارئین کے استفادہ کے لیے قران مجید کا یہ اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔
یہ ترجمہ مولانا جوناگڑہی کے قلم سے ہے اور تفسیری حواشی مولانا صلاح الدین یوسف کے تحریرکردہ ہیں۔ مجمع کی جانب سے نظر ثانی کا کام ڈاکٹر وصی اللہ بن محمد عباس اور ڈاکٹر اختر جمال لقمان نے انجام دیا ہے۔)
آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ سعودی عالم آلِ فرعون کا ترجمہ اردو میں کیا کر رہا ہے۔
وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ
(القران ٤٠:٢٨) اور ایک مومن شخص نے، جو کہ فرعون کے خاندان سے تھا، کہا کہ کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟ اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے۔
اردو ترجمہ از سعودی مطبوعہ قران
صرف یہیں ایک جگہ نہیں، بلکہ جہاں جہاں قران میں آل کا لفظ آیا ہے، وہاں پر ایک دفعہ بھی ان سعودی علماء نے اس کا ترجمہ کبھی قوم یا امت نہیں کیا ہے بلکہ ہمیشہ ترجمہ کے لیے خاندان والے یا گھر والے استعمال کیا ہے۔
مثلاً سورہ یوسف میں اللہ سبحانہ تعالیٰ آلِ یعقوب استعمال کر رہا ہے:
وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَعَلَى آلِ يَعْقُوبَ كَمَا أَتَمَّهَا عَلَى أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
(القران ١٢:٦) اور اسی طرح تیرا پروردگار تجھے برگزیدہ کرے گا اور تجھے معاملہ فہمی (یا خوابوں کی تعبیر) سکھائے گا اور اپنی نعمت تجھے بھرپور عطا فرمائے گا۔ اور یعقوب کے گھر والوں کو بھی۔ جیسے کہ اس نے اس سے پہلے تیرے دادا اور پردادا یعنی ابراہیم و اسحاق کو بھی بھرپور اپنی نعمت سے نوازا۔
ترجمہ از سعودی مطبوعہ قران
اور آلِ یعقوب کے ذیل میں ان سعودی علماء نے جو تفسیر کی ہے، وہ بھی قابلِ غور ہے
’اس (نعمت) سے مراد نبوت ہے، جو یوسف (ع) کو عطا کی گئی۔ یا وہ انعامات ہیں جن سے یوسف علیہ السلام مصر میں نوازے گئے۔ اور آلِ یعقوب سے مراد یوسف علیہ السلام کے بھائی اور ان کی اولاد وغیرہم ہیں، جو بعد میں انعاماتِ الہیٰ کے مستحق بنے۔
آل سے مراد قوم یا امت ہرگز نہیں ہے کیونکہ اللہ نے قران میں "آل" کے لفظ کے ساتھ "قوم" کا لفظ استعمال کر کے آل اور قوم دونوں کو الگ الگ کر دیا ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ قران کیسے "آل" اور "قوم" میں فرق کر رہا ہے:
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ
إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ نَّجَّيْنَاهُم بِسَحَرٍ
(القران ٥٤:٣٤) قومِ لوط نے بھی ڈرانے والوں کی تکذیب کی۔ بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی، سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے، انہیں ہم نے سحر کے وقت نجات دے دی۔
ترجمہ از سعودی مطبوعہ قران
پھر ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح سعودی مطبوعہ قران آل کا ترجمہ قوم یا امت کرنے کی بجائے گھر والوں کر رہا ہے۔
اگر آل سے مرادامت یا قوم ہوتی تو پھر حضرت لوط (ع) کی امت تو اسی رات عذاب سے دفن ہو گئی تھی جبکہ اللہ کہہ رہا ہے کہ اس نے آلِ لوط کو بچا لیا ہے۔
ایک اور جگہ اللہ قران میں کہہ رہا ہے:
قَالُواْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمٍ مُّجْرِمِينَ
إِلاَّ آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ
لاَّ امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَا إِنَّهَا لَمِنَ الْغَابِرِينَ
فَلَمَّا جَاء آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ
(القران، سورہ ١٥، آیات ٥٨ تا ٦١) (فرشتوں) نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ سوائے خاندانِ لوط کے (آلِ لوط) کے کہ ان سب کو بچا لیں گے۔ مگر سوائے (لوط ) کی بیوی کے، کہ اسے ہم نے رکنے اور باقی رہ جانے والوں میں مقرر کر دیا ہے۔ جب بھیجے ہوئے فرشتے آلِ لوط کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ تم لوگ تو انجان معلوم ہو رہے ہو۔
ترجمہ از سعودی مطبوعہ قران
اور دوسری جگہ اللہ فرما رہا ہے:
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(القران ٢٧:٥٦) تو ان کی قوم کا کوئی جواب نہیں تھا سوائے اس کے کہ لوط کے خاندان (آلِ لوط) کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو کہ یہ لوگ بہت پاکباز بنتے ہیں۔
ترجمہ از سعودی مطبوعہ قران
قوم تو خود کہہ رہی ہے کہ آلِ لوط کو اس بستی سے نکال دو اور مولوی حضرات قران کی مخالفت میں کہتے ہیں کہ آل سے مراد پوری امت ہے۔ آخر لوگوں کو آلِ محمد سے اتنی دشمنی کیوں ہے کہ قران کے احکامات ماننے کے لیے بھی تیار نہیں۔
اور اس مفروضہ کو کہ آل سےمراد امت یا قوم ہے، قران نے کئی اور جگہ پر واضح طور پر رد کیا ہے۔ اللہ قران میں فرماتا ہے:
إِنَّ اللّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ
ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِن بَعْضٍ وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(القران، سورہ ٣، آیات ٣٣ تا ٣٤) بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لوگوں میں سے آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کو، اور ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان اور عمران کے خاندان کو منتخب فرما لیا۔کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل (ذریت) سے ہیں اور اللہ تعالیٰ سنتا اور جانتا ہے۔
ترجمہ از سعودی مطبوعہ قران
اللہ نے خود اس آیتِ مبارکہ میں آل کا مطلب نسل کہہ کر اور قرانی آیت میں ذریت کا لفظ استعمال کر کے آلِ محمد کے دشمنوں کا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔ اب جو قران کو ہی نہ مانے اس کا کیا علاج؟
قران تو کہہ رہا ہے کہ:
اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا
(سورہ سبا، آیت١٣)اے اولادِ داؤد اللہ کا شکر ادا کرتے رہو۔
ترجمہ از سعودی مطبوعہ قران
اسی طرح دوسری جگہ کہہ رہا ہے کہ
يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا
(سورہ مریم، آیت ٦) جو میرا بھی وارث ہواور یعقوب علیہ السلام کے خاندان کا بھی جانشین ہو۔ اے میرے رب اسے پسندیدہ بندہ بنانا
ترجمہ از سعودی مطبوعہ قران
اور اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں یہ سعودی عالم لکھتا ہے کہ:
’انبیاء علیھم السلام کے خاندانوں میں دو عمران ہوئے ہیں ایک حضرت موسیٰ و ہارون علیھما السلام کے والد دوسرے حضرت مریم علیہا السلام کے والد۔ اس آیت میں اکثر مفسرین کے نزدیک یہی دوسرے عمران مراد ہیں اور اس خاندان کو بلند درجہ حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے حاصل ہوا اور حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ کا نام مفسرین نے حنۃ بنت فاقوذ لکھا ہے (تفسیر قرطبی و ابن کثیر) اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آل عمران کے علاوہ مزید تین خاندانوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت میں جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ ان میں پہلے حضرت آدم علیہ السلام ہیں ، جنہیں اللہ نے اپنے ہاتہ سے بنایا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی، انہیں مسجود ملائک بنایا، اسما کا علم انہیں عطا کیا اور انہینں جنت میں رہاش پذیر کیا، جس سے پھر انہیں زمین میں بھیج دیا گیا جس میں اس کی بہت سی حمتیں تھیں۔ دوسرے حضرت نوح علیہ السلام ہیں، انہیں اس وقت رسول بنا کر بھیجا گیا جب لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا، انہیں عمر طویل عطا کی گئی، انہوں نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کی، لیکن چند افراد کے سوا، کوئی آپ پر ایمان نہیں لایا۔ بالآخر آپ کی بددعا سے اہل ایمان کے سوا، دوسرے تمام لوگوں کو غرق کر دیا گیا۔ آل ابراہیم کو یہ فضیلت عطا کی کہ ان میں انبیاء و سلاطین کا سلسلہ قائم کیا اور بیشتر پیغمبر آپ ہی کی نسل سے ہوئے۔ حتیٰ کہ علی الاطلاق کائنات میں سب سے افضل حضرت محمد (ص) بھی حضرت ابراہیم (ع) کے بیٹے، اسمٰعیل (ع) کی نسل سے ہوئے۔ ُ
اب یہ ناصبی حضرات کس کس آیت کا انکار کریں گے؟
اگر ہمیں اسلام کے دائرہ میں رہنا ہے تو آل سے مراد جو قران میں ہے وہی ہمیں بھی قبول کرنا پڑے گا۔ مزید دیکھئے کہ قران کیا کہہ رہا ہے:

وَقَالَ لَهُمْ نِبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلآئِكَةُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(سورہ بقرہ ٢:٢٤٨) ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کے بادشاہ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کہ طرف سے تسکین دہ چیزیں اور ان تبرکات سے بچی ہوئی کچھ چیزیں ہونگی جو آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون چھوڑ گئے ہیں اور اس صندوق کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اور اس میں تمہارے لیے نشانی پوری ہے اگر تم مومنین میں سے ہو۔
اگر آل سے مراد امت ہو تو پھر صندوق میں ساری امت کے تبرکات ہونے چاہئے جب کہ ایسا نہیں ہے۔ قران میں ہی ہے کہ:
فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا
(سورہ النساء ٤:٥٤) ’ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت دی اور ہم نے ان کو ملک عظیم عطا فرمایا۔
سوچئے کہ کیا اللہ نے پوری قوم کو کتاب دی اور کیا پوری قوم کو حکیم بنایا (یعنی حکمت دی)۔ اور اسی طرح کیا پوری امت کو حکومت دی گئی؟
یا پھر صرف یہ چار کتب زبور، توریت، انجیل اور قران دیا؟ اب اگر آل سے مراد اولاد ہو گی تو جن کو کتب ملی وہ سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہونگے؟ اور اگر آل سے مراد قوم ہو گی تو پھر اللہ نے چار لاکھ کتب آل ابراہیم کو دی ہونگی۔ تلاش کیجئے۔
حدیث میں آلِ محمد کا ثبوت
حدثنا ‏ ‏هارون بن معروف ‏ ‏حدثنا ‏ ‏عبد الله بن وهب ‏ ‏قال قال ‏ ‏حيوة ‏ ‏أخبرني ‏ ‏أبو صخر ‏ ‏عن ‏ ‏يزيد بن قسيط ‏ ‏عن ‏ ‏عروة بن الزبير ‏ ‏عن ‏ ‏عائشة ‏ أن رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏أمر بكبش أقرن ‏ ‏يطأ في سواد ‏ ‏ويبرك في سواد ‏ ‏وينظر في سواد ‏ ‏فأتي به ليضحي به فقال لها يا ‏ ‏عائشة ‏ ‏هلمي ‏ ‏المدية ‏ ‏ثم قال ‏ ‏اشحذيها ‏ ‏بحجر ففعلت ثم أخذها وأخذ الكبش فأضجعه ثم ذبحه ثم قال ‏ ‏باسم الله اللهم تقبل من ‏ ‏محمد ‏ ‏وآل ‏ ‏محمد ‏ ‏ومن أمة ‏ ‏محمد ‏ ‏ثم ضحى به
رسول (ص) نے حضرت عائشہ کو حکم دیا کہ ایک کالی ٹانگوں والا بھیڑ کا بچہ لایا جائے، جس کا پیٹ بھی کالا ہو اور جس کی آنکھوں کے گرد کالے حلقے ہوں تاکہ وہ اُس کی قربانی کر سکیں۔ پھر آپ (ص) نے حضرت عائشہ سے فرمایا: مجھے ایک بڑی چھری دو اور ایک پتھر پر اس کی دھار لگاؤ۔ حضرت عائشہ نے یہ کر دیا۔ پھر رسول (ص) نے چاقو اور بچھڑے کو لیا، اسے زمین پر لٹایا اور پھر یہ الفاظ کہتے ہوئے ذبح فرمایا: "بسم اللہ، اللھم تقبل من محمد و آل محمد و من امتی محمد" (یعنی اے اللہ! اس قربانی کو قبول فرما محمد کی طرف سے، اور آلِ محمد کی طرف سے اور امتِ محمد کی طرف سے)۔
صحیح مسلم، کتاب الاضاحی
اگلی حدیث بھی امام مسلم نے نقل کی ہے:
حدثنا ‏ ‏قتيبة بن سعيد ‏ ‏حدثنا ‏ ‏عبد العزيز يعني ابن أبي حازم ‏ ‏عن ‏ ‏أبي حازم ‏ ‏عن ‏ ‏سهل بن سعد ‏ ‏قال ‏ ‏استعمل على ‏ ‏المدينة ‏رجل من آل ‏ ‏مروان ‏ ‏قال فدعا ‏ ‏سهل بن سعد ‏ ‏فأمره أن يشتم ‏ ‏عليا ‏ ‏قال فأبى ‏ ‏سهل ‏ ‏فقال له أما إذ أبيت فقل لعن الله ‏ ‏أبا التراب ‏ ‏فقال ‏ ‏سهل ‏ ‏ما كان ‏ ‏لعلي ‏ ‏اسم أحب إليه من ‏ ‏أبي التراب
ترجمہ:
سہل بن سعد کہتے ہیں کہ مدینہ میں مروان کے خاندان میں سے ایک شخص حاکم ہوا تو اس نے سہل کو بلایا اور مولا علی علیہ السلام کو گالی دینے کا حکم دیا۔ سہل نے انکار کیا تو وہ شخص بولا کہ اگر تو گالی دینے سے انکار کرتا ہے تو کہہ کہ ابوتراب پر اللہ کی لعنت ہو۔ سہل نے کہا کہ علی علیہ السلام کو ابوتراب سے زیادہ کوئی نام پسند نہ تھا اور وہ اس نام کے ساتھ پکارنے والے شخص سے خوش ہوتے تھے
صحیح مسلم، کتاب فضائل صحابہ، فضائل علی ابن ابی طالب
اب مروان کی کوئی قوم نہیں تھی اور آلِ مروان سے مراد صرف اور صرف مروان کے خاندان کا ایک شخص ہے۔ مگر ناصبی حضرات ابھی تک آل کو قوم بنانے پر تلی ہوئی ہے۔
آلِ عمر کون ہیں؟
عمر ابن خطاب کے متعلق روایت ہے:
عمر ابن خطاب کی غذا ایک یا دو ٹوکرے ٹڈیوں کے کھا لیتے تھے۔ ایک صاع کھجور (ساڑھے تین سیر) ڈال دی جاتی تھیں۔ وہ انہیں کھاتے تھے اور اس میں خراب اور ردی بھی کھا لیتے تھے۔ عمر اپنے جوتے سے کھانا کھانے کہ بعد ہاتھ پونچھتے تھے اور کہتے تھے آلِ عمر کی رومال اُن کے جوتے ہیں۔ عمر گوشت کھا کر اپنا ہاتھ قدم سے پوچھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ آلِ عمر کا رومال ہے۔
سنی حوالہ: طبقات ابن سعد،اردو ایڈیشن از نفیس اکیڈمی، جلد اول، صفحۃ 75
نماز میں آلِ محمد کا ثبوت
اس بات کا ثبوت قران میں بھی موجود ہے کہ آل سے مراد قوم یا امت نہیں ہے کیونکہ ہر مسلمان نماز میں درود کے علاوہ الگ سے السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین پڑھتا ہے۔ اگر آل سے مراد امت ہوتی تو الگ سے صالحین پر سلام نہ ہوتاکیونکہ تمام صالحین تو خود رسول (ص) کی امت سے ہیں۔
درود میں آلِ محمد کا ثبوت
اور اسی طرح اگر آل سے مراد امت ہو تو پھر مکتبِ صحابہ والے درود میں اپنی طرف سے ازواج و اصحاب اجمعین کا اضافہ نہ کرتے؟ ازواجِ رسول اور اصحابِ رسول امت سے باہر تو نہیں؟ اس کا صاف مطلب ہے کہ آل سے مراد امت ہرگز نہیں ہے۔
حضرت مہدی (ع) آلِ محمد سے ہیں
سنن ابو داؤد، کتاب المہدی میں عبد اللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا کہ:
اگر دنیا کی عمر میں بس صرف ایک دن بھی باقی رہ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو اسقدر طولانی کرے گا کہ یہاں تک کہ میری نسل سے ایک شخص کو ظاہر کرے۔
اور سنن ابو داؤد، کتاب المہدی میں ابو سعید خدری سے رسول اللہ کی حدیث نقل کی ہے جس میں آپ (ص) نے فرمایا:
’مہدی مجھ سے ہے۔
صاحبِ نور الابصار نے اپنی کتاب کے صفحہ ٣٤٦ پر ترمذی سےایک ایسی روایت نقل کی ہے جو کہ ابو سعید خدری سے مروی ہے۔ اور اس کےبعد امام ترمذی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ:
یہ حدیث صحیح اور ثابت شدہ ہے۔
نیز صاحبِ نور الابصار کا کہنا ہے کہ اس حدیث کو طبرانی اور طبرانی کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی نقل کیا ہے۔
ابن حجر اپنی کتاب صواعقِ محرقہ کے صفحہ ٩٨ پر رسول اللہ (ص) کی اس حدیث کو نقل کرتے ہیں جسے طبرانی اور دوسرے محدیثین نے نقل کیا ہے۔
آپ (ص ) نے فرمایا:
’مہدی میری اولاد میں سے ہو گا۔
نور الابصار صفحہ ٢٣٠ پر ابن شیرویہ سے اور وہ حذیفہ بن الیمان سے اور وہ رسول اللہ سے اسی طرح کی حدیث نقل کرتے ہیں۔
ایضاً اسی کتاب کے سفحہ ٢٣١ پر حضرت علی ابن ابی طالب (ع) سے روایت ہے:
میں نے رسول اللہ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا مہدی ہم آل محمد میں سے ہے یا ہمارے علاوہ کسی اور کی نسل سے؟ تو رسول اللہ (ص) نے جواب دیا: ہرگز نہیں! بلکہ ہم ہی سے ہے۔
صاحب مطالب السؤل اپنی کتاب میں رقمطراز ہیں کہ:
آل کے کلمہ کی تعریف کے بارے میں لوگوں کے اقوال مختلف ہیں۔ کچھ کا کہنا ہےکہ کسی کی آل ، اس شخص کے گھر والے ہیں، جبکہ بعض نے یہ رائے دی ہے آلِ نبی وہ لوگ ہیں جن پر زکوۃ حرام ہے۔ لیکن اس کی بجائے خمس حلال ہےاور بعض نے یہ قول اختیار کیا ہے کہ کسی شخص کی آل یعنی جو اس شخص کے دین اور مسلک پر چلے اور پیروی کرے۔
اب پہلے نظریے کے حامی اس چیز کے ذریعے استدلال کرتے ہیں جس کو قاضی الحسین بن مسعود بغوی نے اپنی کتاب شرح سنت الرسول میں رقم کیا ہے اور ایسی احادیث کی تشریح کی ہے کہ جن کی صحت متفق علیہ ہے۔
مذکورہ مصنف نے جس حدیث کو اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اس کو اپنی سند کا ذکر کرتے ہوئے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے متصل کیا ہے کہ ابن ابی لیلیٰ نے کہا کہ:
میں نے کعب بن عجرہ سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا کہ آیا میں تحفہ میں تمہیں ایسی حدیث سناؤں جو کہ میں نے ختم مرتبت سے سنی ہے؟
عبد الرحمٰن نے کہا کہ بالکل سنائیے۔ تو پھر کعب نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ (ص) سے پوچھا کہ ہم آپ اہلبیت پر درود کیسے بھیجیں؟ تو آپ (ص) نے فرمایا کہ کہو:
اللھم صل ، علی محمد وا علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و آل ابراہیم و بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم و آل ابراہیم انک حمید مجید۔
پس آنحضرت (ص) نے اس حدیث میں آل اور اہل کی تفسیر و تشریح ایک دوسرے کے ذریعے فرمائی۔ اس طرح تفسیر شدہ اور تفسیر کنندہ لفظ ایک دوسرے کے ہم معنی ہیں۔ (یعنی آ ل اور اھل) پس لفظ کو بدلا گیا ہے مگر معنی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے۔
اس طرح آل النبی، اہل بیت ہیں اور اہل بیت آل النبی۔ اس حساب سے الفاظ تو مختلف ہیں لیکن معنی کے لحاظ سے متحد۔
اس کے علاوہ ایک دوسری حقیقت جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ عربی زبان میں کلمہ آل کو کلمہ اہل سے لیا گیا ہے۔ اور کلمہ اہل میں موجود ہائے ھوز، ھمزہ میں تبدیل ہو گئی۔
اس امر کی نشاندہی اس وقت ہوتی ہے جب ہم کلمہ آل کی تصغیر بنائیں کیونکہ تصغیر کے وقت آل کی ھاء پلٹ آتی ہے اور آل کا تلفظ اھیل ہو جاتا ہے۔
اب کلمہ آل کے معنی کرتے ہوئے جن لوگوں نے دوسرے قول کو اختیار کیا ہے اور انکا استدلال وہ روایت ہےکہ جس کو ائمہ حدیث نے اپنی مسانید میں ذکر کہا ہے۔ اور امام مسلم بن حجاج، ابو داؤود اور نسائی ان سب نے مذکورہ حدیث کی سند کو اپنی صحیح میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے اور آخر میں عبد المطلب بن ربیعہ بن الحارث سےمتصل کیا ہے کہ عبد المطلب کہتے ہیں:
میں نے رسول اللہ (ص) سے سنا کہ تمام صدقات میل کچیل کی مانند ہیں ۔ اور محمد اور آل محمد میں کسی پر حلال نہیں۔
اور دوسرا استدلال اس حدیث کے ذریعے ہے جس کو امام دارالھجرۃ مالک بن انس اپنی کتاب میں سند کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کی آپ (ص) نے فرمایا:
صدقہ آلِ محمد کے لئے حلال نہیں ہے کیونکہ یہ لوگوں کے اموال کا میل ہے۔
پس رسول اللہ نے حرمتِ صدقات کو اپنی آل کی خصوصیات میں سے قرار دیا۔ لہذا وہ لوگ جن پر صدقہ حرام ہے، بنو ہاشم، اور پھر بنو عبد المطلب ہیں۔ اور جب زید بن ارقم سے پوچھا گیا کہ وہ کون آلِ رسول ہیں کہ جن پر صدقہ حرام ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ول آل علی، آل جعفر، آل عباس اور آل عقیل ہیں (یعنی خاندان والے)۔ اور آل کے یہ معنی پہلے معنی سے ملتے جلتے ہیں۔
ذیل میں ہم صحیح مسلم، کتاب فضائلِ الصحابہ کی اس حدیث کا عربی ٹیکسٹ دے رہے ہیں۔
6378 - حدثني زهير بن حرب، وشجاع بن مخلد، جميعا عن ابن علية، قال زهير حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، حدثني أبو حيان، حدثني يزيد بن حيان، قال انطلقت أنا وحصين، بن سبرة وعمر بن مسلم إلى زيد بن أرقم فلما جلسنا إليه قال له حصين لقد لقيت يا زيد خيرا كثيرا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمعت حديثه وغزوت معه وصليت خلفه لقد لقيت يا زيد خيرا كثيرا حدثنا يا زيد ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال - يا ابن أخي والله لقد كبرت سني وقدم عهدي ونسيت بعض الذي كنت أعي من رسول الله صلى الله عليه وسلم فما حدثتكم فاقبلوا وما لا فلا تكلفونيه ‏.‏ ثم قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فينا خطيبا بماء يدعى خما بين مكة والمدينة فحمد الله وأثنى عليه ووعظ وذكر ثم قال ‏"‏ أما بعد ألا أيها الناس فإنما أنا بشر يوشك أن يأتي رسول ربي فأجيب وأنا تارك فيكم ثقلين أولهما كتاب الله فيه الهدى والنور فخذوا بكتاب الله واستمسكوا به ‏"‏ ‏.‏ فحث على كتاب الله ورغب فيه ثم قال ‏"‏ وأهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي ‏"‏ ‏.‏ فقال له حصين ومن أهل بيته يا زيد أليس نساؤه من أهل بيته قال نساؤه من أهل بيته ولكن أهل بيته من حرم الصدقة بعده ‏.‏ قال ومن هم قال هم آل علي وآل عقيل وآل جعفر وآل عباس ‏.‏ قال كل هؤلاء حرم الصدقة قال نعم ‏
اللہ محمد و آلِ محمد اور آپ پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ امین۔
صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ

Popular Posts (Last 30 Days)

 
  • Recent Posts

  • Mobile Version

  • Followers