Friday, December 14, 2012
Who are the Rightly Guided Caliphs? -Video
Tuesday, December 11, 2012
کیا ابوبکر اور عمر نے امیرا لمومنین علی (علیہ السلام) کو مبارکباد دی تھی؟
اہل سنت کے رجال حدیث، مفسر ین اور مورخین نے شیخین (ابوبکر و عمر) کی مبارکباد کو نقل کیا ہے ، ایک گروہ نے اس کو ارسال مسلم ، مرسل (۱) کے عنوان سے نقل کیا ہے اور ایک گروہ نے اس کو صحیح اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں ، اس کی سند پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب میں سے کسی نہ کسی صحابی پر ختم ہوتی ہے جیسے ابن عباس،ابوہریرہ، براء بن عازب اور زید بن ارقم۔
مرحوم علامہ امینی (رحمة اللہ علیہ) نے کتاب الغدیر (۲) نے ایسے ۶۰ افراد کے نام بیان کئے ہیں جنہوں نے شیخین کی مبارکباد کو روایت کیا ہے جیسے :
۱۔ جنبلیوں کے راہنما امام احمد بن حنبل(متوفی ۲۴۱) ۔ (۳) ۔
۲۔ حافظ ابوجعفر محمد بن جریر طبری (متوفی ۳۱۰) انہوں نے اپنی تفسیر کی کتاب میں بیان کیا ہے (۴) ۔
۳۔ حجة الاسلام ابوحامد غزالی(متوفی ۵۰۵) (۵) ۔
۴۔ ابوالفتح اشعری شہرستانی (متوفی ۵۴۸) (۶) ۔
۵۔ فخر الدین رازی شافعی (متوفی ۶۰۶) (۷) ۔
۶۔ جلال الدین سیوطی ، متوفی (۹۱۱)، (۸) (۹) ۔
۱۔ یعنی اس کو مسلم اور یقینی جانتے ہیں اور اسی وجہ سے اس کو مرسلہ اور بغیر سند کے ذکر کیا ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ حدیث یقینی طور پر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے صادر ہوئی ہے اور اس کی سند کی تحقیق ضروری نہیں ہے ۔
مرحوم علامہ امینی (رحمة اللہ علیہ) نے کتاب الغدیر (۲) نے ایسے ۶۰ افراد کے نام بیان کئے ہیں جنہوں نے شیخین کی مبارکباد کو روایت کیا ہے جیسے :
۱۔ جنبلیوں کے راہنما امام احمد بن حنبل(متوفی ۲۴۱) ۔ (۳) ۔
۲۔ حافظ ابوجعفر محمد بن جریر طبری (متوفی ۳۱۰) انہوں نے اپنی تفسیر کی کتاب میں بیان کیا ہے (۴) ۔
۳۔ حجة الاسلام ابوحامد غزالی(متوفی ۵۰۵) (۵) ۔
۴۔ ابوالفتح اشعری شہرستانی (متوفی ۵۴۸) (۶) ۔
۵۔ فخر الدین رازی شافعی (متوفی ۶۰۶) (۷) ۔
۶۔ جلال الدین سیوطی ، متوفی (۹۱۱)، (۸) (۹) ۔
۱۔ یعنی اس کو مسلم اور یقینی جانتے ہیں اور اسی وجہ سے اس کو مرسلہ اور بغیر سند کے ذکر کیا ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ حدیث یقینی طور پر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے صادر ہوئی ہے اور اس کی سند کی تحقیق ضروری نہیں ہے ۔
2 ـ (الغدیر 1/510 ـ 527).
3 ـ مسند احمد 4: 281 (5/355، ح 18011).4 ـ تفسیر طبرى 3: 428.
3 ـ مسند احمد 4: 281 (5/355، ح 18011).4 ـ تفسیر طبرى 3: 428.
5 ـ سرّ العالمین: 9 (ص 21).
6. الملل و النحل، چاپ شده در حاشیه الفِصَل ابن حزم 1: 220 (الملل والنحل 1/145).
7 ـ التفسیر الکبیر 3: 636 (12/49).
8 ـ جمع الجوامع میں اس کو روایت کیا ہے اور کنزالعمال 6: 397 (13/133، ح36420) میں اس طرح آیا ہے ۔
9- شفیعی مازندرانی / گزیده اى جامع از الغدیر، ص 78.
6. الملل و النحل، چاپ شده در حاشیه الفِصَل ابن حزم 1: 220 (الملل والنحل 1/145).
7 ـ التفسیر الکبیر 3: 636 (12/49).
8 ـ جمع الجوامع میں اس کو روایت کیا ہے اور کنزالعمال 6: 397 (13/133، ح36420) میں اس طرح آیا ہے ۔
9- شفیعی مازندرانی / گزیده اى جامع از الغدیر، ص 78.
Thursday, December 6, 2012
حضرت عمر نے رسول اللہ ع کے فیصلوںکو تبدیل کیا !
حضرت عمر نے رسول اللہ ع کے فیصلوں کو تبدیل کیا : عالم اھل سنت کا اعتراف
روزنامہ جنگ اخبار مورخہ 9 دسمبر 2011 کے شمارے میں عالم اھل سنت حافظ عبدالواحد نے "اجتہاد کی ضرورت و اھمیت " کے نام سے ایک مقالہ لکھا ہے اور اس میں حافظ عبدالواحد صاحب فرماتے ہیں کہ
" حضور اکرم ع کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بدلتے ہوئے حالات اور امت کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر خلفاء راشدین اور خاص طور پر حضرت عمر نے حضور ع کے دور کے بعض فیصلوں میں ترمیم فرمائی جس میں سے کچھ مندرجہ ذیل پیش کئے جاتے ہیں
1۔ حضور کے عہد سے حضرت ابوبکر کے عہد تک ایک مجلس میں تین طلاقوں کو طلاق رجعی قرار دیا جاتا تھا ، مگر حضرت عمر نے اس کو طلاق مغلطہ قرار دیا (یعنی ایک مجلس میں ایک ہی بار تین طلاقیں واقعی ہو جائیں گی جبکہ رسول اللہ ع اور ابوبکر کے دور میں ایسا نہ تھا )
2۔ رسول اللہ ع نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ کوئی عرب غلام نہیں بن سکتا مگر حضرت عمر نے کسی عرب کو غلام بنانے کی ممانعیت فرمادی
3۔ حضور ع کے عہد میں قرآنی نص کے مطابق مولفتہ القلوب کو صدقہ و زکوۃ دی جاتی تھی جبکہ عہد ابوبکر میں حضرت عمر کی رائے سے اسے ختم کر دیا گیا۔
4۔ حضرت ابوبکر کے دور میں شرابی کی تعزیر چالیس درے تھی ۔ حضرت عمر نے اسی 80 کر دیا اور حجرت عثمان نے دونوں ہی مختلف اوقات پر عمل کیا
5۔ حضرت ابوبکر کے عہد تک غیر شادی شدہ کی سزائے زنا100 کوڑے کے ساتھ ملک بدری بھی تھی لیکن حضرت عمر نے اپنے دور میں ملک بدری کو موقوف کر فرمادیا۔
6 ۔ حضور ع کے عہد میں بعض مفتوحہ زمینیں مثلا خیبر مجاہدوں میں تقسیم کی گئیں لیکن حضرت عمر نے اپنے عہد میں عراق اور شام کی مفتوحہ زمینیں صحابہ اکرام کے اصرار کے باوجود تقسیم نہیں فرمائیں
7 ۔ حضور ع نے کبھی پورے رمضان میں بیس رکعت اور وہ بھی باجماعت تراویح نہیں پڑھی ۔دور صدیقی میں بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا لیکن حضرت عمر نے اپنے دور میں اس کا باقاعدہ اہتمام فرمایا اور وہ اب تک رائج ہے " ۔۔۔۔
اجتھاد کی ضرورت و اھمیت // حافظ عبدالواحد// جنگ روزنامہ جنگ اخبار دسمبر 9 //2011
آئن لائن حوالہ : http://e.jang.com.pk/pic.asp?picname=05_01.gif
ہمارا تجزیہ :
ہماری نظر میں کسی بھی فرد کو قرآن و رسول اللہ کے بتائے ہوئے حلال کو حرام یا اس میں ترمیم کرنے کا حق نہیں ہے ، چاہے وہ کوئی صحابی رسول ہو یا خلیفہ راشد ہو
قرآن میں اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿٤٤﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿٤٥﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿٤٦﴾
سورة الحاقة
اور اگر یہ پیغمبر ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتا ۔ تو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑ لیتے۔اور پھر اس کی گردن اڑادیتے
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ 1:سورة التحريم
پیغمبر آپ اس شے کو کیوں ترک کررہے ہیں جس کو خدا نے آپ کے لئے حلال کیا ہے
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ﴿٣٦:سورة الأحزاب﴾
اور کسی مومن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسول کسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحبِ اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسول کی نافرمانی کرے گا وہ بڑی کھاَلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوگا
اللہ فرماتا ہے
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿٤:سورة النجم﴾
اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے۔اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے
آئمہ اھل بیت ع کا منھج
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ حَرِيزٍ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلام) عَنِ الْحَلالِ وَالْحَرَامِ فَقَالَ حَلالُ مُحَمَّدٍ حَلالٌ أَبَداً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَحَرَامُهُ حَرَامٌ أَبَداً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لا يَكُونُ غَيْرُهُ وَلا يَجِيءُ غَيْرُهُ وَقَالَ قَالَ علي (عَلَيْهِ السَّلام) مَا أَحَدٌ ابْتَدَعَ بِدْعَةً إِلا تَرَكَ بِهَا سُنَّةً.
(اصول کافی ،ج1،ص32،باب:19،حدیث:19)
ترجمہ
زُرارہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق (ع) سے حلال وحرام کے متعلق پو چھا ، فرمایا جس کو رسو ل (ص) نے حلال بتایا وہ قیامت تک حلال ہے اور جسے حرام قرار دیا وہ قیامت تک حرام ہے اس کے سوا اب کوئی شریعت نہ ہو گی اور حضرت علی (ع) نے فرمایا :جس نے شریعت میں کو ئی نئی چیز ایجاد کی،اس نے رسول اللہ (ص) کے طریقہ کو چھوڑ دیا.
(اصول کافی ،ج1،ص32،باب:19،حدیث:19)
:سندحدیث کی تحقیق
علامہ مجلسی (رہ) نے مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے
.( مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، ج1، ص: 200).
روزنامہ جنگ اخبار مورخہ 9 دسمبر 2011 کے شمارے میں عالم اھل سنت حافظ عبدالواحد نے "اجتہاد کی ضرورت و اھمیت " کے نام سے ایک مقالہ لکھا ہے اور اس میں حافظ عبدالواحد صاحب فرماتے ہیں کہ
" حضور اکرم ع کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بدلتے ہوئے حالات اور امت کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر خلفاء راشدین اور خاص طور پر حضرت عمر نے حضور ع کے دور کے بعض فیصلوں میں ترمیم فرمائی جس میں سے کچھ مندرجہ ذیل پیش کئے جاتے ہیں
1۔ حضور کے عہد سے حضرت ابوبکر کے عہد تک ایک مجلس میں تین طلاقوں کو طلاق رجعی قرار دیا جاتا تھا ، مگر حضرت عمر نے اس کو طلاق مغلطہ قرار دیا (یعنی ایک مجلس میں ایک ہی بار تین طلاقیں واقعی ہو جائیں گی جبکہ رسول اللہ ع اور ابوبکر کے دور میں ایسا نہ تھا )
2۔ رسول اللہ ع نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ کوئی عرب غلام نہیں بن سکتا مگر حضرت عمر نے کسی عرب کو غلام بنانے کی ممانعیت فرمادی
3۔ حضور ع کے عہد میں قرآنی نص کے مطابق مولفتہ القلوب کو صدقہ و زکوۃ دی جاتی تھی جبکہ عہد ابوبکر میں حضرت عمر کی رائے سے اسے ختم کر دیا گیا۔
4۔ حضرت ابوبکر کے دور میں شرابی کی تعزیر چالیس درے تھی ۔ حضرت عمر نے اسی 80 کر دیا اور حجرت عثمان نے دونوں ہی مختلف اوقات پر عمل کیا
5۔ حضرت ابوبکر کے عہد تک غیر شادی شدہ کی سزائے زنا100 کوڑے کے ساتھ ملک بدری بھی تھی لیکن حضرت عمر نے اپنے دور میں ملک بدری کو موقوف کر فرمادیا۔
6 ۔ حضور ع کے عہد میں بعض مفتوحہ زمینیں مثلا خیبر مجاہدوں میں تقسیم کی گئیں لیکن حضرت عمر نے اپنے عہد میں عراق اور شام کی مفتوحہ زمینیں صحابہ اکرام کے اصرار کے باوجود تقسیم نہیں فرمائیں
7 ۔ حضور ع نے کبھی پورے رمضان میں بیس رکعت اور وہ بھی باجماعت تراویح نہیں پڑھی ۔دور صدیقی میں بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا لیکن حضرت عمر نے اپنے دور میں اس کا باقاعدہ اہتمام فرمایا اور وہ اب تک رائج ہے " ۔۔۔۔
اجتھاد کی ضرورت و اھمیت // حافظ عبدالواحد// جنگ روزنامہ جنگ اخبار دسمبر 9 //2011
آئن لائن حوالہ : http://e.jang.com.pk/pic.asp?picname=05_01.gif
ہمارا تجزیہ :
ہماری نظر میں کسی بھی فرد کو قرآن و رسول اللہ کے بتائے ہوئے حلال کو حرام یا اس میں ترمیم کرنے کا حق نہیں ہے ، چاہے وہ کوئی صحابی رسول ہو یا خلیفہ راشد ہو
قرآن میں اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿٤٤﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿٤٥﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿٤٦﴾
سورة الحاقة
اور اگر یہ پیغمبر ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتا ۔ تو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑ لیتے۔اور پھر اس کی گردن اڑادیتے
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ 1:سورة التحريم
پیغمبر آپ اس شے کو کیوں ترک کررہے ہیں جس کو خدا نے آپ کے لئے حلال کیا ہے
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ﴿٣٦:سورة الأحزاب﴾
اور کسی مومن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسول کسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحبِ اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسول کی نافرمانی کرے گا وہ بڑی کھاَلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوگا
اللہ فرماتا ہے
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿٤:سورة النجم﴾
اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے۔اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے
آئمہ اھل بیت ع کا منھج
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ حَرِيزٍ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلام) عَنِ الْحَلالِ وَالْحَرَامِ فَقَالَ حَلالُ مُحَمَّدٍ حَلالٌ أَبَداً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَحَرَامُهُ حَرَامٌ أَبَداً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لا يَكُونُ غَيْرُهُ وَلا يَجِيءُ غَيْرُهُ وَقَالَ قَالَ علي (عَلَيْهِ السَّلام) مَا أَحَدٌ ابْتَدَعَ بِدْعَةً إِلا تَرَكَ بِهَا سُنَّةً.
(اصول کافی ،ج1،ص32،باب:19،حدیث:19)
ترجمہ
زُرارہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق (ع) سے حلال وحرام کے متعلق پو چھا ، فرمایا جس کو رسو ل (ص) نے حلال بتایا وہ قیامت تک حلال ہے اور جسے حرام قرار دیا وہ قیامت تک حرام ہے اس کے سوا اب کوئی شریعت نہ ہو گی اور حضرت علی (ع) نے فرمایا :جس نے شریعت میں کو ئی نئی چیز ایجاد کی،اس نے رسول اللہ (ص) کے طریقہ کو چھوڑ دیا.
(اصول کافی ،ج1،ص32،باب:19،حدیث:19)
:سندحدیث کی تحقیق
علامہ مجلسی (رہ) نے مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے
.( مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، ج1، ص: 200).
Wednesday, December 5, 2012
حضرت عمر کا اجتہاد قرآن و سنت کے خلاف
حضرت عمر کا اجتہاد قرآن و سنت کے خلاف ہوتا تھا.بقول سنی عالم
اھل سنت کے عالم ڈاکٹر پروفیسر خورشید احمد فارق ،جو کہ دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہ چکے ہیں ،اپنی کتاب حضرت عمر کے سرکاری خطوط میں بیان کرتے ہیں کہ
ان (عمر) کا اجتہاد آزاد اور با جرات تھا وہ اگر کسی بات کو درست سمجھتے یا خلافت کے مفاد میں تو اسے بے دھڑک اختیار کرلیتے تھے ، چاہے ایسا کرنے میں سنت رسول (ص) اور عمل صدیق کی مخالفت ہی کیوں نہ کرنی پڑتی ، اگر حالات کا تقاضا ہوتا تو وہ قرآن کے ضابطوں کو بھی نظر انداز کر دیتے تھے
(حضرت عمر فاروق کے سرکاری خطوط ، ص 25 ، ناشر ادارہ اسلامیات انار کلی لاھور )
تبصرہ:
ڈاکٹر خورشید صاحب کے الفاظ خود واضح ہیں ان پر تبصرہ کی ضرورت نہیں .
اھل سنت حضرات اپنے اس عالم کے بارے میں کیا کہیں گے،کیا سپاہ یزید،ڈاکٹر خورشید صاحب کو بھی حقائق بیان کرنے پر کافر قرار دے گی
اھل سنت کے عالم ڈاکٹر پروفیسر خورشید احمد فارق ،جو کہ دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہ چکے ہیں ،اپنی کتاب حضرت عمر کے سرکاری خطوط میں بیان کرتے ہیں کہ
ان (عمر) کا اجتہاد آزاد اور با جرات تھا وہ اگر کسی بات کو درست سمجھتے یا خلافت کے مفاد میں تو اسے بے دھڑک اختیار کرلیتے تھے ، چاہے ایسا کرنے میں سنت رسول (ص) اور عمل صدیق کی مخالفت ہی کیوں نہ کرنی پڑتی ، اگر حالات کا تقاضا ہوتا تو وہ قرآن کے ضابطوں کو بھی نظر انداز کر دیتے تھے
(حضرت عمر فاروق کے سرکاری خطوط ، ص 25 ، ناشر ادارہ اسلامیات انار کلی لاھور )
تبصرہ:
ڈاکٹر خورشید صاحب کے الفاظ خود واضح ہیں ان پر تبصرہ کی ضرورت نہیں .
اھل سنت حضرات اپنے اس عالم کے بارے میں کیا کہیں گے،کیا سپاہ یزید،ڈاکٹر خورشید صاحب کو بھی حقائق بیان کرنے پر کافر قرار دے گی
ئہ لیجے ایک اور حوالہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ سنت کے مطابق عمل نہیں کرتے تھے
Popular Posts (Last 30 Days)
-
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ The Chains (Asnad) Of Narrations Of Ghadir Khum The importance of the tradition of Ghadir K...
-
There is much to be said about this event that you narrated from Sahih Bukhari and about what it proves. EVIDENCE 1 - The Prophet Muhammad...
-
Tabari: Narrated Aboo Hisham Al-Rafi from Aboo Bakr Ibn Ayyash from Hasim Ibn Kulayb from his father who said: " Uma...
-
Umar Ibn Khattab Blog Archive Overview The blog archive contains a collection of 900+ posts discussing various aspects of Umar Ibn Khattab...
-
Abdul Kareem Mushtaq - Hum Muta Kiyon Kerte Hain Here is an unbiased debate on 'Muta' from ARY Digital. The host is neutra...
-
Ye sirf ek jhooot hai ki Maula Ali a.s masoom wali-e-khuda wasi-e-rasol s.a.w alamdar-e-parchame-e-islam ,sher-e-khuda, la fatah illa ...
-
كتاب التفسير "Verily! Those who call you from behind the dwellings, most of them have no sense." (Quran .49:4) (2) باب {إِنّ...

