• Misyar Marriage

    is carried out via the normal contractual procedure, with the specificity that the husband and wife give up several rights by their own free will...

  • Taraveeh a Biad'ah

    Nawafil prayers are not allowed with Jama'at except salatul-istisqa' (the salat for praying to Allah to send rain)..

  • Umar attacks Fatima (s.)

    Umar ordered Qunfuz to bring a whip and strike Janabe Zahra (s.a.) with it.

  • The lineage of Umar

    And we summarize the lineage of Omar Bin Al Khattab as follows:

  • Before accepting Islam

    Umar who had not accepted Islam by that time would beat her mercilessly until he was tired. He would then say

Monday, February 25, 2013

عمر نماز عیدین میں بھی غائب

جناب عمر اکثر رسول کے پاس سے غائب رہتے تھے یہاں تک ان عظیم مناسبتوں میں بھی غائب رہتے تھے جن میں سب مسلمان جمع ہوتے ہیں جیسے عید الفطر و عید الاضحی کیونکہ عمر بعد میں ان لوگوں سے سوال کرتے تھے جنھیں ذکر خدا اور اقامت نماز سے تجارت باز نہیں رکھتی تھی چنانچہ عمر پوچھتے تھے -رسول صہ نے نماز عید الفطر و عید الاضحی میں کیا پرھا تھا-

امام مسلم نے اپنی صحیح میں لکھا ہے کہ
عبید اللہ ابن عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے کہ عمر نے ابوواقداللیثی سے پوچھا کہ رسول نے نماز عید الفطر و عید الاضحی میں کیا پرھا تھا انھوں نے کہا ق والقرآں المجید اور اقتربت الساعۃ والنشق القمر

اسی طرح یہ روایت خود ابو واقداللیثی سے بھی منقول ہے
صحیح مسلم کتاب العیدین نیز امام مالک کی موطا کتاب العیدین


اب یار لوگوں کی ان گرھی ہوئی حدیثوں کا کیا ہوگا جو یہ بتاتی ہے کہ جناب ابوبکر و عمر نبی کے ہمراہ آتے تھے نماز عید کے لیے؟؟؟؟

Important Note : 
 برادرم آپ نے لکھنے میں غلطی فرمائی عمر نے یہ نہیں کہا کیا پڑھا بلکہ یہ پوچھا رسول اللہ عیدین میں کیا پڑھا کرتے تھے۔ اس یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمر ابن خطاب کسی بھی عید کی نما میں شرکت ہی نہیں کی تھی۔ غور طلب بات ہے

صحابی کا تسلیم کرنا کہ متعہ تزویج میں شامل!!

اھسنت اکثر اوقات یہ کہہ کر متعہ کو حرام کہنے کی کوشش کرتے ھیں کہ یہ عورتیں زوجیت میں شامل ہی نہیں۔ مگر ھم دیکھتے ھیں کہ ایک صحابی نے اس بات کو تسلیم کیا ھے کہ یہ ازواج میں شامل ھیں۔ اور انہوں نے اس عمل کو تزویج میں شمار کیا ھے۔ چلیے دیکھتے ھیں
روایت نمبر ۱

ابو یعلی نے اپنی مسند میں ایک روایت کا ذکر کیا ھے جسمیں ایک صحابی نے متعہ کا ذکر کیا ھے۔ پہلے ھم اس روایت کا چند الفاظ کا ذکر کریں گے


رقم الحديث: 924

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ " ، قَالَ : وَالاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا : التَّزْوِيجُ ۔۔۔۔۔۔۔

سبرہ نے کہا کہ نبی پاک نے حجۃ الوداع کے موقع پر کہا کہ ان عورتوں سے استمتاع کرو۔ سبرہ نے کہا کہ استمتاع ھمارے ھاں تزویج ھوتی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔

(مسند ابو یعلی، جلد ۲، صفحہ ۲۳۸)

کتاب کے محقق، شیخ حسین سلیم اسد نے سند کو صحیح کہا ھے۔

یاد رھے کہ اس روایت میں آگے اس بات کا تذکرہ موجود ھے کہ یہ متعہ تھا، بلکہ لفظ متعہ استعمال ھوا ھے۔


إِنِّي كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الْمُتْعَةِ

میں نے تم لوگوں کو متعہ کی اجازت دی تھی۔۔۔۔

اب اس روایت سے ۲ باتیں ظاہر ھیں

۱- استمتاع اور متعہ، دونوں لفظ ایک ھی مقصد کے لیے استعمال ھوتے تھے۔

۲- اس عمل کو تزویج میں شمار کیا جاتا تھا، اس وجہ سے یہ شبہہ کہ نكاح المتعة اس آیت ( إلاّ على أزواجهم ) سے منسوخ ھو گئی، غلط ھے


یاد رھے کہ یہ واقعہ کافی مشھور ھے، اور اس سے ملتی جلتی روایات صحیح مسلم میں بھی موجود ھیں



یہ حوالہ، شیخ حسن عبداللہ کے ویب سائٹ سے لیا گیا ھے



روایت نمبر ۲


اچھا، اب ایک اور روایت مسند احمد سے ملاحظہ ھو

ھم مکمل روایت نقل نہیں کریں گے، بلکہ ضروری حصہ نقل کریں گے

ثم أمرنا بمتعة النساء فرجعنا إليه فقلنا يا رسول الله انهن قد أبين إلا إلى أجل مسمى قال فافعلوا قال فخرجت أنا وصاحب لي علي برد وعليه برد فدخلنا على امرأة فعرضنا عليها أنفسنا فجعلت تنظر إلى برد صاحبي فتراه أجود من بردي وتنظر إلي فتراني أشب منه فقالت برد مكان برد واختارتني فتزوجتها عشرا ببردى فبت معها تلك الليلة فلما أصبحت غدوت إلى المسجد فسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على المنبر يخطب يقول من كان منكم تزوج امرأة إلى أجل

پھر رسول اللہ نے ھمیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی۔ ھم واپس نبی پاک کے پاس آئے اور کہا کہ وہ ایک خاص مدت کے علاوہ راضی نہیں ھو رھیں۔ پس انہوں نے کہا کہ ایسا کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس عورت نے مجھے اختیار کیا اور میں نے اس سے ۱۰ دن کے لیے شادی ( فتزوجتها) کر لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھم نے نبی پاک کو سنا کہ وہ منبر پر کہہ رہے تھے کہ تم میں سے جس نے عورتوں سے ایک خاص مدت کے لیے شادی ( تزوج )کی ھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مسند احمد، جلد ۳، صفحہ ۴۰۴)
کتاب کے محقق، شیخ شعیب الارناوط نے کہا ھے

إسناده صحيح على شرط مسلم رجاله ثقات رجال الشيخين غير الربيع بن سبرة فمن رجال مسلم

سند امام مسلم کے شرط پر صحیح ھے۔ راوی سارے ثقہ ھیں ، اور بخاری اور مسلم کے ھیں سوائے الربيع بن سبرة کے جو صرف مسلم کے راوی ھیں


یہ روایت مصنف عبدالرزاق میں بھی ہے
یہ حوالہ بھی شیخ عبداللہ حسن کی تحقیق سے اخذ کیا گیا ھے

Acceptance of Sahabi that Muta'a is included in Marriage


Many a times we see that Ahlusunnah will try to prove prohibition of Muta'a on the grounds that it is not Marriage. But we see that a Sahabi included them in wives, and termed this process تزویج

Let us see two narrations in this regard

NARRATION 1

Abu Y'ala writes


رقم الحديث: 924

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ " ، قَالَ : وَالاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا : التَّزْوِيجُ ۔۔۔۔۔۔۔

Sabra bin Ma'bad said that Holy Prophet asws told us on day of Hujjat ul Wida'a: Do Istimta'a (temporary marriage) with these women. And Istimta'a in Marriage for us...........

[Musnad Abu Y'ala, 2/238]

Researcher of the book, Sheikh Hussein Saleem Asad termed the chain Sahih

Keep in mind that incident of Sabra bin Ma'bad is quite well known, and many narrations on this issue have been included in Sahih Muslim where the entire incident is given. You can read it here on this link

And even in this narration, it has been clarified further that it was Muta'a


إِنِّي كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الْمُتْعَةِ

(Holy Prophet asws said) I had given permission to you for Muta'a

So, this narration clarifies two things

1- Istimta'a and Muta'a, both terms are used for the same process

2- Sabra bin Ma'bad accepted that it is marriage/ تزویج

Taken from the research of Sheikh Hasan Abdullah

NARRATION 2

Ahmad bin Hanbal writes in his Musnad, the same incident; I will be translation the relevant parts only


ثم أمرنا بمتعة النساء فرجعنا إليه فقلنا يا رسول الله انهن قد أبين إلا إلى أجل مسمى قال فافعلوا قال فخرجت أنا وصاحب لي علي برد وعليه برد فدخلنا على امرأة فعرضنا عليها أنفسنا فجعلت تنظر إلى برد صاحبي فتراه أجود من بردي وتنظر إلي فتراني أشب منه فقالت برد مكان برد واختارتني فتزوجتها عشرا ببردى فبت معها تلك الليلة فلما أصبحت غدوت إلى المسجد فسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على المنبر يخطب يقول من كان منكم تزوج امرأة إلى أجل

Sabra said that Holy Prophet asws then permitted us to do Muta'a with ladies. We came to him and told him : O Prophet asws! they are not willing except for a specific time. He replied: Do it then.......................That lady opted me. So I married her (فتزوجتها ) for 10 days..............We heard Holy Prophet saying on Pulpit: whosoever married (تزوج) a lady for specific time..............

[Musnad Ahmad, 3/404]

Sheikh Shoaib ul Arnawut says

تعليق شعيب الأرنؤوط : إسناده صحيح على شرط مسلم رجاله ثقات رجال الشيخين غير الربيع بن سبرة فمن رجال مسلم

Chain is Sahih on terms of Muslim, Narrators are all thiqa and that of Sheikhain except Rabi'i bin Sabra who is narrator of Muslim only

taken from research of Sheikh Hasan Abdullah


CONCLUSION

The attempt on part of scholars of Ahlusunnah to prove prohibition of Muta'a from the verse of Quran ( إلاّ على أزواجهم ), is nullified by this saying of Sahabi, who used the same words of (فتزوجتها ) and ( التَّزْوِيجُ); and words of Holy Prophet using the words (تزوج امرأة إلى أجل) 

کیا صرف صحابیت فلاح کے لیے کافی ھے؟

مسند البزار میں ایک روایت آتی ھے
5068- حَدَّثنا أَبُو موسى، قَال: حَدَّثنا يَحْيَى بن حماد، قَال: حَدَّثنا أَبُو عَوَانة، عَن سُلَيْمَانَ عَنْ عَدِيّ بْنِ ثَابِتٍ، عَن سَعِيد بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِي اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَبِي صَحِبَ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم، وَكان مَعَ أَبِي ولَنَعْلٌ خَلَقٌ خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ.

ابن عباس نے کہا کہ ان میں سے ایک نے کہا کہ میرے والد صحابی تحے اور وہ میرے والد کے ساتھ تھے۔ مگر لوگوں کے جوتے اس کے باپ سے بہتر تھے

(11/277)
ھیتمی نے سند کے متعلق کہا

رواه البزار، ورجاله رجال الصحيح

بزار نے اس کی روایت کی، اور اس کے راوی صحیح حدیث کے راوی ھیں

( مجمع الزوائد 1 : 113 ، رقم : 435)
ھیتمی کی تصریح کے بعد اگر چہ ضرورت تو نہیں، مگر
اس روایت کی سند پر ایک اعتراض یہ کیا گیا ھے کہ اعمش مدلس ھے، اور یہ روایت معنعن ھے۔ تاھم یاد رھے کہ اعمش کے عدی بن ثابت کے معنعن کو صحیح تسلیم کیا گیا ھے

جیسا کہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ روایت درج کی ھے

أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَيَّ أَنْ " لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِق "

اس روایت میں اعمش نے عدی سے معنعن نقل کیا ھے

امام علی والی یہ روایت فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل میں بھی ھے، اور محقق وصی اللہ بن محمد عباس نے اسے صحیح مانا ھے

(صفحہ ٦۹٦، روایت ۹۴۸)

اسی طرح، یہ امام علی والی روایت صحیح ابن حبان میں بھی ھے، اور شیخ شعیب الارناوط نے اسے صحیح سند لکھا ھے

(جلد ۱۵، صفحہ ۳٦۷)
واپس اپنی روایت پر آتے ھیں جس سے ھم استدلال قائم کر رھے تھے
اس روایت سے یہ تو ثابت ھوا کہ صرف صحابیت کا نعرہ لگا کر فلاح حاصل نہیں کی جا سکتی۔ وگرنہ ابن عباس یہ بات سن کر خاموش ھو جاتے
اس عنوان پر ھم نے پہلے بھی ایک حوالہ دیا تھا، انگلش میں ھے، ملاحظہ ھو
sahabiyyat: a passport to heaven? slave of Ahlubait's Blog

یہ روایت الھاد کے عربی تھریڈ سے اخذ کیا گیا ھے، جسکا لنک درج ھے

Muawiya considered himself more deserving of Caliphate than Umar?

We find in Sahih Bukhari 

حدثني إبراهيم بن موسى أخبرنا هشام عن معمر عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال وأخبرني ابن
 طاوس عن عكرمة بن خالد عن ابن عمر قال دخلت على حفصة ونسواتها تنطف قلت قد كان من أمر الناس ما ترين فلم يجعل لي من الأمر شيء فقالت الحق فإنهم ينتظرونك وأخشى أن يكون في احتباسك عنهم فرقة فلم تدعه حتى ذهب فلما تفرق الناس خطب معاوية قال من كان يريد أن يتكلم في هذا الأمر فليطلع لنا قرنه فلنحن أحق به منه ومن أبيه قال حبيب بن مسلمة فهلا أجبته قال عبد الله فحللت حبوتي وهممت أن أقول أحق بهذا الأمر منك من قاتلك وأباك على الإسلام فخشيت أن أقول كلمة تفرق بين الجمع وتسفك الدم ويحمل عني غير ذلك فذكرت ما أعد الله في الجنان قال حبيب حفظت وعصمت قال محمود عن عبد الرزاق ونوساتها (صحيح البخاري كتاب المغازي باب غزوة الخندق وهي الأحزاب ) 
Online English translation writes 
Narrated `Ikrima bin Khalid: Ibn `Umar said, I went to Hafsa while water was dribbling from her twined braids. I said, The condition of the people is as you see, and no authority has been given to me. Hafsa said, (to me), Go to them, and as they (i.e. the people) are waiting for you, and I am afraid your absence from them will produce division amongst them. So Hafsa did not leave Ibn `Umar till we went to them. When the people differed. Muawiya addressed the people saying, If anybody wants to say anything in this matter of the Caliphate, he should show up and not conceal himself, for we are more rightful to be a Caliph than he and his father. On that, Habib bin Masalama said (to Ibn `Umar), Why dont you reply to him (i.e. Muawiya)? `Abdullah bin `Umar said, I untied my garment that was going round my back and legs while I was sitting and was about to say, He who fought against you and against your father for the sake of Islam, is more rightful to be a Caliph, but I was afraid that my statement might produce differences amongst the people and cause bloodshed, and my statement might be interpreted not as I intended. (So I kept quiet) remembering what Allah has prepared in the Gardens of Paradise (for those who are patient and prefer the Hereafter to this worldly life). Habib said, You did what kept you safe and secure (i.e. you were wise in doing so). 
Ibn Hajar writes in Fath-ul-Bari, about saying of Mawia خطب معاوية قال من كان يريد أن يتكلم في هذا الأمر 
Ibn Hajar writes قوله : ( أن يتكلم في هذا الأمر ) أي الخلافة . 
 His saying: (If someone wishes to speak on this matter), this is Caliphate 
He further writes ووقع في رواية عبد الرزاق عند قوله : فلنحن أحق به منه ومن أبيه يعرض بابن عمر فعرف بهذه الزيادة مناسبة قول حبيب بن مسلمة لابن عمر : هلا أجبته 
And it comes in narration of Abdul Razaq regarding the saying that I am more deserving from him and his father..It was said about Ibn Umar, and this addition is in accordance of Habib bin Muslima to Ibn Umar: Why did you not reply him? [Fath ul Bari, 7/310 & Another link; and in Urdu translation, Faiz ul Bari, Para 16, page 163] 
The narration of Abdul Razaq is present in his book, Musanif Abdul Razaq, 5/464 Badr ud Deen Aini also mentioned وهذا تعريض منه بابن عمر وعمر رضي الله تعالى عنهما And this was about Ibn Umar and Umar 
He further writes opinion of Ibn Teen قَوْله: (أَحَق بِهِ) أَي: بِأَمْر الْخلَافَة. قَوْله: (مِنْهُ) أَي: من عبد الله (وَمن أَبِيه) أَي: وَمن أَبي عبد الله وَهُوَ عمر بن الْخطاب 
And the saying: (I have more right) it is about Caliphate. And his saying (From him) it is from Abdullah; (and from his Father) it is about father of Abdullah, and he is Umar bin Khitaab [Umda tul Qari, 17/185]

Tuesday, February 19, 2013

The Incident at Fatima's House involving Abu Bakr and Umar -Video

WHO KILLED SAYYIDA FATIMA ZAHRA (S.A.) MUST WATCH ! -Video

All the References are from Sunni Books :

Umar killed lady Fatima, why Imam Ali did not kill him right there? - Video

Monday, February 18, 2013

Could You please tell who is the Imam of Fatima Zehra (SA) ??

Ahmad ibn Hanbal in his Musnad, vol. 28, p. 88, Number 16876 (Muasassat al-Risalah) records: 
قال رسولالله 
 : من مات بغير إمام مات ميتة جاهلية

 Allah's Apostle said: "Whosoever dies without an Imam dies the death of Jahiliyyah (i.e. a pagan death)." 

The annotator says: هذا حديث صحيح لغيره وهذا إسناد حسن من أجل عاصم وبقية رجاله ثقات، رجال الشيخين This Hadith is sahih via corroboration, and this chain is hasan on account of Asim, while the rest of the narrators are trustworthy, being narrators of the Two Shaykhs. 
Sahih Bukhari Volume 4, Book 53, Number 325: 
Narrated Ayesha(mother of the believers),'After the death of Allah's Apostle Fatima,the daughter of Allah's Apostle asked Abu Bakr As-Siddiq to give her the share of inheritance from what Allah's Apostle had left of the Fai (i.e. booty gained without fighting)which Allah had given him. Abu Bakr said to her, "the Holy Prophet (saww) had said, 'Our property will not be inherited, whatever we (i.e. prophets) leave is Sadaqah (to be used for charity)." Fatima, the daughter of Allah's Apostle got angry and stopped speaking to Abu Bakr, and continued assuming that attitude till she died. Fatima remained alive for six months after the death of the Holy prophet(saww).


Sunday, February 17, 2013

Umar Killed Fatima (SA) - Research Papers

Popular Posts (Last 30 Days)

 
  • Recent Posts

  • Mobile Version

  • Followers