صحیح بخاری اور دیگر کتب میں سینکڑوں
واقعات ہیں جہاں صحابہ ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں۔ مگر اسکے
باوجود نہ رسول ﷺ نے، صحابہ نے، نہ تابعین نے ۔۔۔ کسی نے بھی اسکے لیے
انہیں کافر مانا اور نہ ہی ان کے قتل کا فتوی جاری کیا۔
2620 ـ
حدثنا إسماعيل، قال حدثني أخي، عن سليمان، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن
عائشة ـ رضى الله عنها ـ أن نساء، رسول الله صلى الله عليه وسلم كن حزبين
فحزب فيه عائشة وحفصة وصفية وسودة، والحزب الآخر أم سلمة وسائر نساء رسول
الله صلى الله عليه وسلم، وكان المسلمون قد علموا حب رسول الله صلى الله
عليه وسلم عائشة،۔۔۔، فأرسلن زينب بنت جحش، فأتته فأغلظت، وقالت إن نساءك
ينشدنك الله العدل في بنت ابن أبي قحافة. فرفعت صوتها، حتى تناولت عائشة. وهى قاعدة،فسبتهاحتى إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لينظر إلى عائشة هل تكلم قال فتكلمت عائشة ترد على زينب، حتى أسكتتها. قالت فنظر النبي صلى الله عليه وسلم إلى عائشة، وقال " إنها بنت أبي بكر ".
ترجمہ:
رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ازواج دو گروہوں میں بٹی ہوئی تھیں۔
ایک گروہ میں عائشہ، حفضہ، صفیہ اور سودہ تھیں، جبکہ دوسرے میں ام سلمہ اور
دوسری ازواج شامل تھیں۔ مسلمانوں کو علم تھا کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم) عائشہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس لیے اگر ان کو آپ(صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم) کو کوئی تحفہ دینا ہوتا تھا تو وہ اس بات کا انتظار کرتے تھے کہ
آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) حضرت عائشہ کے گھر میں پہنچ جائیں تو پھر
آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو تحفہ دیا جائے۔۔۔۔پھر انہوں نے ام المومنین حضرت زینب بنت جحش کو بھیجا جنہوں سخت الفاظ میں کہا، " آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ازواج درخواست کرتی ہیں کہ ان سے اور ابن ابو قحافہ کی بیٹی سے برابر کا سلوک کیا جائے۔" پھر انہوں نے حضرت عائشہ کے منہ پر بلند آواز میں انہیں بُرا بھلا (عربی لفظ : فسبتها) کہنا شروع کر دیا حتیکہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت عائشہ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا کہ شاید اب وہ جواب دیں۔حضرت عائشہنے پھر حضرت زینب کو جواب دینا شروع کیااور اس زور کا دیاکہ حضرت زینب خاموش ہو گئیں۔ اس پر آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نےحضرت عائشہ کی طرف دیکھ کر کہا، "یہ واقعی ابو بکر کی بیٹی ہے۔"
حوالہ: صحیح بخاری، جلد 3، کتاب 47، حدیث 755 (
آنلائن لنک)
اور صحیح بخاری میں ابوصالح سے روایت ہے:
508 ـ
حدثنا أبو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا يونس، عن حميد بن هلال،
عن أبي صالح، أن أبا سعيد، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم وحدثنا آدم بن
أبي إياس قال حدثنا سليمان بن المغيرة قال حدثنا حميد بن هلال العدوي قال
حدثنا أبو صالح السمان قال رأيت أبا سعيد الخدري في يوم جمعة يصلي إلى شىء
يستره من الناس، فأراد شاب من بني أبي معيط أن يجتاز بين يديه فدفع أبو
سعيد في صدره، فنظر الشاب فلم يجد مساغا إلا بين يديه، فعاد ليجتاز فدفعه
أبو سعيد أشد من الأولى، فنال من أبي سعيد، ثم دخل على مروان فشكا إليه ما
لقي من أبي سعيد، ودخل أبو سعيد خلفه على مروان فقال ما لك ولابن أخيك يا
أبا سعيد قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " إذا صلى أحدكم إلى
شىء يستره من الناس، فأراد أحد أن يجتاز بين يديه فليدفعه، فإن أبى
فليقاتله، فإنما هو شيطان "
ترجمہ:
ابوصالح وسمان روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ
کو جمعہ کے دن دیکھا کہ وہ کسی چیز کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھ رہے تھے،
پس ایک جو ان نے جو (قبیلہ) بنی ابی معیط سے تھا، یہ چاہا کہ ان کے آگے سے
نکل جائے، تو حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے سینہ میں دھکا
دیا، لیکن اس جوان نے کوئی راستہ نکلنے کا ماسوائے ان کے آگے کے نہ دیکھا
تو پھر اس نے چاہا کہ نکل جائے، ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے سے
زیادہ سخت اسے دھکا دیا، اس پر اس نے ابوسعید کو بُرا بھلا کہا (عربی لفظ:
فنال) ، اس کے وہ مروان کے پاس گیا، اور ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو
معاملہ ہوا تھا، اس کی مروان سے شکایت کی، اور اس کے پیچھے (پیچھے)
ابوسعید (بھی) مروان کے پاس گئے، تو مروان نے کہا کہ اے ابوسعید تمہارا اور
تمہارے بھتیجے کے درمیان کیا معاملہ ہے، ابوسعید نے کہا میں نے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی
ایسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہا ہو، جو اسے لوگوں سے چھپالے پھر کوئی شخص اس
کے سامنے سے نکلنا چاہے تو اسے چاہئے کہ اسے ہٹا دے اگر وہ نہ مانے تو اس
سے لڑے، اس لئے کہ وہ شیطان ہی ہے۔
نوٹ: اوپر اس نوجوان کے لیے (تابعی) کا
لفظ ہم نے اپنی طرف سے استعمال نہیں کیا ہے، بلکہ یہ صحیح بخاری کے سعودی
اہل حدیث مترجم (انگریزی) محسن خان کی طرف سے ہے۔
صحیح بخاری میں حضرت انس سے روایت ہے:
2732 ـ
حدثنا مسدد، حدثنا معتمر، قال سمعت أبي أن أنسا ـ رضى الله عنه ـ قال قيل
للنبي صلى الله عليه وسلم لو أتيت عبد الله بن أبى. فانطلق إليه النبي
صلى الله عليه وسلم وركب حمارا، فانطلق المسلمون يمشون معه، وهى أرض سبخة،
فلما أتاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال إليك عني، والله لقد آذاني نتن
حمارك. فقال رجل من الأنصار منهم والله لحمار رسول الله صلى الله عليه
وسلم أطيب ريحا منك. فغضب لعبد الله رجل من قومه فشتما، فغضب لكل واحد
منهما أصحابه، فكان بينهما ضرب بالجريد والأيدي والنعال، فبلغنا أنها أنزلت
{وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا فأصلحوا بينهما}
ترجمہ:
رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے کہا گیا کہ وہ عبد اللہ بن ابئ کی خبر
لیں۔ چنانچہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ایک گدھے پر سوار ھوئے اور
مسلمانوں کی ہمراہی میں ایک بنجر میدان سے ہوتے ہوئے چلے۔ جب آپ(صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم) عبد اللہ بن ابئ کے پاس پہنچے تو اس نے کہا، "مجھ سے دور
رہیں۔ اللہ کی قسم آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے گدھے کی بدبو مجھے
پریشان کر رہی ہے۔" اس پر ایک انصاری نے کہا، "اللہ کی قسم، آپ(صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم) کے گدھے کی بدبو تمہاری بدبو سے اچھی ہے" اس پر عبد اللہ
کے قبیلے کا ایک شخص عبد اللہ کی خاطر غصے ہو گیا اور دونوں نے ایک دوسرے
کو گالیاں (نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی موجودگی میں) دینی شروع کر
دیں۔ اس پر دونوں کے دوستوں کو غصہ آ گیا اور دونوں گروہوںمیں ڈنڈوں،
ہاتھوں اور جوتوں کے ساتھ لڑائی شروع ہو گئی۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ آیت
اس موقع پر نازل ھوئی: "اگر مومنین کے دو گروہوں کے درمیان لڑائی ہو جائے
تو ان میں صلح کرا دو۔"(49:9)
حوالہ: صحیح بخاری، جلد 3، کتاب 49، حدیث 856 (
آنلائن لنک)
حسان بن ثابت صحابی رسول اللہ (ص) کے
شاعر تھے اور جب کفار رسول اللہ (ص) کی ہجو میں شعر کہتے تھے تو حسن بن
ثابت صحابی انکو جواب دیتے تھے۔ مگر یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے واقعہ افک
میں حضرت عائشہ پر ناپاک دامنی کا الزام لگایا تھا۔ اس وجہ سے صحابہ انکو
بُرا بھلا کہتے تھے۔ انکے متعلق صحیح بخاری اور صحاح ستہ میں بے شمار
روایات ہیں:
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ
أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ
قَالَ دَخَلَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَی عَائِشَةَ فَشَبَّبَ وَقَالَ
حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَی مِنْ لُحُومِ
الْغَوَافِلِ قَالَتْ لَسْتَ کَذَاکَ قُلْتُ تَدَعِينَ مِثْلَ هَذَا
يَدْخُلُ عَلَيْکِ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ وَالَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ
مِنْهُمْ فَقَالَتْ وَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنْ الْعَمَی وَقَالَتْ
وَقَدْ کَانَ يَرُدُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ
ترجمہ:
محمد
بن بشار، ابن ابی عدی، شعیب، اعمش، ابی الضحی، مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ
تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسان شاعر نے حضرت عائشہ رضی اللہ
تعالیٰ عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ
عنہا کی تعریف میں یہ شعر پڑھا۔ یعنی عاقلہ ہے پاک دامن ہے اور نیک بخت ہی ۔
صبح کرتی ہیں بھوکی مگر بے گناہ کا گوشت نہیں کرتی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ
تعالیٰ عنہا نے کہا کہ تم تو ایسے نہیں ہو میں نے عرض کیا آپ ایسے آدمی کو
کیوں آنے دیتی ہیں جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ
(وَالَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ مِنْهُمْ الخ) آخر آیت تک حضرت عائشہ رضی
اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اندھے ہونے سے زیادہ اور کیا عذاب ہوگا اور یہ
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے (کفار کو) جواب دیتے تھے۔
اور حسان بن ثابت کی یہ حدیث:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ
عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ
اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَائِ الْمُشْرِکِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَيْفَ بِنَسَبِي فَقَالَ حَسَّانُ
لَأَسُلَّنَّکَ مِنْهُمْ کَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنْ الْعَجِينِ وَعَنْ
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ
عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَا تَسُبُّهُ فَإِنَّهُ کَانَ يُنَافِحُ عَنْ
رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:
محمد
عبدہ ہشام بن عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں
انہوں نے بیان کیا کہ حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرکین کی ہجو بیان کرنے کی اجازت چاہی تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نسب کا کیا کرو گے (یعنی
مشرکین میں بعض کا ہم سے نسبی تعلق ہے اگر ان کی ہجو کرو گے تو میری بھی
ہجو ہوگی) حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا میں آپ کو اس سے اس طرح
نکال دوں گا جس طرح بال آٹے سے نکالا جاتا ہے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے
نقل کیا انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ کے سامنے حسان کو بُرا بھلا
کہا۔ اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برا بھلا
نہ کہو اس لئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جواب
دیتے تھے۔
حضرت عائشہ سے روایت ہے:
سعد بن
معاد کھڑے ہو گئے اور کہا، "یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! اللہ
کی قسم، میں آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو اس سے نجات دلاؤں گا۔ اگر وہ
شخص اوس کے قبیلے سے ہو گا، تو ہم اس کا سر تن سے جدا کر دیں گے۔ اگر وہ
ہمارے بھائیوں خزرج سے ہو گا، تو ہم کو حکم دیں، ہم اس کی تعمیل کریں گے۔"
اس پر سعد بن عبادہ، جو کہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے اور اس سے پہلے نیک شخص
تھے، قبائلی عصبیعت میں آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا، "اللہ کی قسم، تم جھوٹ
بولتے ہو، تم اس کو قتل نہیں کر سکتے ہو، اور کبھی قتل نہیں کرو گے" اس پر
اسید کھڑا ہو گیا اور (سعد کو) کہا،" اللہ کی قسم، تم جھوٹ بولتے ہو،اللہ
کی قسم، ہم اس کو قتل کریں گے۔ اور تم خود منافق ہو اور ایک منافق کا دفاع
کر رہے ہو"اس پر اوس اور خزرج کے قبائل جوش میں آ گئے اور ایک دوسرے سے
لڑنا چاھتے تھے، جبکہ رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) وہاں موجود تھے۔
آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان لوگوں کو اتنی دیر چپ کرایا کہ وہ
خاموش ہو گئے۔ اس دن میں اتنا رویا کہ میرے آنسو رکتے تھے اورنہ مجھے نیند
آتی تھی۔
حوالہ: صحیح بخاری، جلد 3، کتاب 48، حدیث 829
حضرت سلیمان بن صرد سے روایت ہے:
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَ
يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو
مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سُلَيْمَانَ
بْنِ صُرَدٍ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ
أَوْدَاجُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
إِنِّي لَأَعْرِفُ کَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَالَ الرَّجُلُ وَهَلْ
تَرَی بِي مِنْ جُنُونٍ
ترجمہ:
یحیی
بن یحیی، محمد بن علاء، علاء ابومعاویہ اعمش، عدی بن ثابت حضرت سلیمان بن
صرد سے روایت ہے کہنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں (صحابہ)نے آپس
میں ایک دوسرے کو گالی دی ان میں سے ایک آدمی کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور اس
کی گردن کی رگیں پھول گئیں رسول اللہ نے فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا
ہوں کہ اگر یہ آدمی اسے کہ لے تو اس سے (یہ غصہ) جاتا رہے (وہ کلمہ یہ
ہے)أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وہ آدمی عرض کرنے لگا
کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ میں جنون خیال کر رہے ہیں
حوالہ: صحیح مسلم، کتاب 32، حدیث 6316
علقمہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں:
أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ
حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ سِمَاکٍ ذَکَرَ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ
أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ
صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ
بِنِسْعَةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَتَلَ هَذَا أَخِي فَقَالَ لَهُ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَتَلْتَهُ قَالَ يَا
رَسُولَ اللَّهِ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ
قَالَ نَعَمْ قَتَلْتُهُ قَالَ کَيْفَ قَتَلْتَهُ قَالَ کُنْتُ أَنَا
وَهُوَ نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُ
بِالْفَأْسِ عَلَی قَرْنِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَکَ مِنْ مَالٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِکَ قَالَ
يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي إِلَّا فَأْسِي وَکِسَائِي۔۔۔
ترجمہ:
اسماعیل بن مسعود، خالد، حاتم، سماک، علقمہ بن وائل سے روایت ہے کہ وہ حضرت
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس دوران ایک
شخص آیا۔ ایک دوسرے شخص کو کھینچتا ہوا رسی پکڑ کر انہوں نے کہا یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے میرے بھائی کو مار ڈالا ہے۔ اس پر حضرت
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تم نے اس
کو قتل کیا ہے؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر یہ
اقرار نہ کرتا تو میں گواہ لاتا۔ اس دوران اس نے کہا میں نے قتل کیا ہے۔ آپ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کس طریقہ سے مارا اور قتل کیا ہے۔ اس
نے کہا میں اور اس کا بھائی دونوں لکڑیاں اکھٹا کر رہے تھے ایک درخت کے
نیچے اس دوران اس نے مجھ کو گالی دی مجھ کو غصہ آیا میں نے کلہاڑی اس کے سر
پر ماری (وہ مر گیا) اس پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا تمہارے پاس مال ہے جو کہ تم اپنی جان کے عوض ادا کرے۔ اس نے
کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تو کچھ نہیں ہے علاوہ
اس کمبل اور کلہاڑی کے۔
نوٹ: پہلے صحابی (قاتل) نے یھی وہی
بہانہ کیا جو کہ سپاہ صحابہ قتل کرنے کے بعد کرتی ہے (یعنی اس نے اس لیے
قتل کیا کیونکہ دوسرے نے گالی دی تھی)۔
0 comments:
Post a Comment
براہ مہربانی شائستہ زبان کا استعمال کریں۔ تقریبا ہر موضوع پر 'گمنام' لوگوں کے بہت سے تبصرے موجود ہیں. اس لئےتاریخ 20-3-2015 سے ہم گمنام کمینٹنگ کو بند کر رہے ہیں. اس تاریخ سے درست ای میل اکاؤنٹس کے ضریعے آپ تبصرہ کر سکتے ہیں.جن تبصروں میں لنکس ہونگے انہیں فوراً ہٹا دیا جائے گا. اس لئے آپنے تبصروں میں لنکس شامل نہ کریں.
Please use Polite Language.
As there are many comments from 'anonymous' people on every subject. So from 20-3-2015 we are disabling 'Anonymous Commenting' option. From this date only users with valid E-mail accounts can comment. All the comments with LINKs will be removed. So please don't add links to your comments.